مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، برطانوی خام تیل 93 ڈالر فی بیرل اور امریکی خام تیل 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
دبئی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
مشرقی وسطیٰ میں جنگ اور امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی کے بعد خام تیل کی قیمت میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ برطانوی خام تیل 93 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا جبکہ امریکی خام تیل 88 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔
قطری وزیرِ توانائی نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ خلیجی ممالک تیل کی پیداوار روک سکتے ہیں، جبکہ جنگ کے فوری خاتمے پر بھی توانائی کی ترسیلات معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو سکیورٹی فراہم کر سکتی ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مشکل فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جیسے ہی معاملات بہتری کی طرف جائیں گے اسی تیزی سے قیمتیں کم کی جائیں گی۔













