ایران کے میزائل حملوں نے دبئی اور ابوظہبی کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو خطرے میں ڈال دیا، سرمایہ کار پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
دبئی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) متحدہ عرب امارات میں جاری پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافے کو ایران کے حالیہ میزائل حملوں نے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان حملوں نے خطے کے پرامن اور محفوظ ہونے کے تاثر کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
دبئی اور ابوظہبی جیسے شہروں کی تعمیراتی سرگرمیاں غیر ملکی سرمایہ پر انحصار کرتی ہیں، لیکن ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور رہائشی علاقوں پر حملوں کے بعد یہاں کی معاشی استحکام کی شہرت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈویلپرز جن کی عمارتیں محض نقشے کی بنیاد پر فروخت ہو جاتی تھیں، اب خریداروں کی کمی کا سامنا کر سکتے ہیں۔ دبئی میں 65 فیصد گھروں کی خرید و فروخت ادھورے منصوبوں میں ہوئی تھی جن کا مستقبل اب غیر ملکی خریداروں کی دلچسپی پر منحصر ہے۔
بدھ کو دبئی اور ابوظہبی کی تعمیراتی کمپنیوں کے حصص میں پانچ فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ بینک اور مالیاتی ادارے بھی نئے منصوبوں کے لیے سرمایہ اکٹھا کرنے میں ہچکچا رہے ہیں۔
کچھ بڑے ڈویلپرز کا خیال ہے کہ یہ صورتحال عارضی ہے، لیکن ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پراپرٹی کی ضرورت سے زیادہ ہو چکی ہیں اور خریداروں کی کمی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے کورونا کے بعد ٹیکس فری پالیسی اور ویزا اصلاحات کے ذریعے دنیا بھر کے امیروں کو راغب کیا تھا، جس سے پراپرٹی کی قیمتوں میں 60 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ لیکن اب اصل اثر لڑائی کے رکنے پر معلوم ہوگا کہ غیر ملکی خریدار ابھی بھی یہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔













