امریکی وزارت دفاع کے ایران پر حملوں کے نقشے میں جنوبی ایرانی شہر مناب کو شامل کرنے پر تنازع پیدا ہوا، جہاں اسکول حملے میں 165 بچے ہلاک ہوئے تھے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی وزارت دفاع کی بریفنگ میں ایران پر حملوں کے نقشے نے نیا تنازع پیدا کر دیا ہے، کیونکہ اس نقشے میں جنوبی ایرانی شہر مناب کو امریکی حملوں کے زون میں دکھایا گیا ہے۔ مناب میں ایک اسکول پر حملے میں کم از کم 165 بچے ہلاک ہوئے تھے۔
پینٹاگون کی بریفنگ میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران پر حملوں کا نقشہ پیش کیا جس میں مختلف مقامات کو نشانہ بنانے والے زونز دکھائے گئے۔ صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ مناب انہی زونز کے اندر واقع ہے۔
🚨 Right in the middle of the strike map U.S. War Secretary Pete Hegseth proudly displayed at a Pentagon briefing today sits Minab — the site of a school in southern Iran where a U.S.–Israeli strike killed 165 children this weekend.
BBC’s Tom Bateman asked Hegseth whether the… https://t.co/RBlC4bLpBN pic.twitter.com/Xoi5GeENA6
— Drop Site (@DropSiteNews) March 4, 2026
بی بی سی کے صحافی ٹام بیٹمین نے بریفنگ کے دوران سوال کیا کہ کیا پینٹاگون کو معلوم ہے کہ مناب کے اسکول پر حملہ کرنے والا ہتھیار کس کا تھا۔ ہیگستھ نے کہا کہ محکمہ دفاع اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے اور حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
صحافی کرس اوسیئک نے امریکی فوج کے نقشے پر مناب اسکول کے مقام کو نشان زد کیا، جس سے واضح ہوا کہ یہ مقام امریکی حملوں کے زون میں آتا ہے۔
I plotted the location of the Minab school (green dot) onto the map shared by the U.S. military, for those interested. https://t.co/FV2JyBSLPP pic.twitter.com/WeKpWxHMFT
— Chris Osieck (@ChrisOsieck) March 4, 2026
ایرانی حکام نے اس حملے کو امریکا اور اسرائیل کی کارروائی قرار دیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔












