برطانوی وزارتِ دفاع نے قبرص میں اڈے پر حملے کے بعد ایران کی مداخلت کی تردید کی ہے اور خطے میں دفاعی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
لندن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) برطانوی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ قبرص میں واقع برطانوی فضائیہ کے اڈے پر حملہ کرنے والا ڈرون ایران سے نہیں آیا تھا۔ وزارت نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
Update on UK operations in the Middle East: 04 March 2026 ⬇️ pic.twitter.com/LkE1D4Fuek
— Ministry of Defence 🇬🇧 (@DefenceHQ) March 4, 2026
اکروتیری کا فوجی اڈہ قبرص کے لیمسل شہر کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ برطانیہ کے ان دو فوجی اڈوں میں شامل ہے جو 1960 میں قبرص کی آزادی کے بعد بھی برطانوی کنٹرول میں ہیں۔ یہاں فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ بھی مقیم ہیں۔
حملے کے بعد برطانوی حکام نے خطے میں موجود برطانوی اور اتحادی اڈوں کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ برطانوی ساختہ فضائی دفاعی میزائل اور رائل نیوی کے میزائلوں سے لیس ہیلی کاپٹر جلد قبرص پہنچیں گے۔
قبل ازیں ،ایران اس سے پہلے سعودی آئل ریفائنر ی ڈرون حملہ کے حوالے سے تردید کر چکا ہے کہ یہ حملہ اس نے نہیں کیا بلکہ ایران نے الزام لگایا کہ اسرائیل شاہد ڈرون سے ملتے جھلتے ڈرون کے ذریعے حملہ کر کے سعودی عرب کو اس لڑائی میں گھسیٹنا چاہ رہاہے۔
خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث فوجی تنصیبات پر حملوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک اپنے دفاعی اقدامات کو مضبوط بنا رہے ہیں۔












