مودی کے دورہ اسرائیل پر بھارتی اپوزیشن اور عالمی میڈیا نے تنقید کی ہے، یہ دورہ ایران پر ممکنہ حملے سے قبل ہوا ہے۔
نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے پر عالمی میڈیا اور بھارتی اپوزیشن نے شدید تنقید کی ہے۔ یہ دورہ ایران پر ممکنہ حملے سے قبل ہوا ہے، جس سے بھارت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی اور ایران کے خلاف ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ بعض بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ دورہ اسرائیل کی متنازع حکومت کے لیے سیاسی سہارا ثابت ہوا۔
بھارتی اپوزیشن، بشمول کانگریس، نے اس دورے کو روایتی بھارتی خارجہ پالیسی سے انحراف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران پر خاموشی نے بھارت کی غیر جانبدار ساکھ کو متاثر کیا ہے۔
کچھ مبصرین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ دورہ چابہار بندرگاہ اور کاروباری مفادات کے تحفظ سے متعلق تھا، کیونکہ اڈانی گروپ کی اسرائیل اور ایران میں سرمایہ کاری ہے۔
بھارتی حکومت نے ان الزامات پر تفصیلی ردعمل نہیں دیا، جبکہ بحث جاری ہے کہ قومی مفادات اور کاروباری تعلقات میں کس کو ترجیح دی گئی۔












