قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے بتایا کہ پاکستانی چاول کی برآمدات میں کمی اور عالمی قیمت میں آدھی کمی ہوئی ہے، بھارت کی برآمدات نے مارکیٹ پر اثر ڈالا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں پاکستانی چاول کی برآمدات میں کمی ہوئی اور عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بھی آدھی ہو گئیں۔
اجلاس میں جاوید حنیف نے استفسار کیا کہ رائس ایکسپورٹرز کو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ سے 15 ارب روپے کیسے جاری ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نئے بورڈ کے قیام سے دو دن پہلے منظوری دی گئی۔
حکام نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی چاول کی تعداد اور قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جبکہ بھارت نے اپنی برآمدات روک دی تھیں، جس سے قیمتوں میں فرق آیا۔
مزید بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس 2 ارب ڈالر مالیت کے چاول کے ذخائر موجود ہیں اور ریئل اسٹیٹ کے پیسے کو چاول کی خریداری میں استعمال کیا گیا۔
اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایران میں پاکستانی باسمتی کو نان باسمتی بنا کر بیچا جا رہا تھا اور چاول سیکٹر کو ای ڈی ایف سے مالی معاونت فراہم کی گئی۔














