اسٹیٹ بینک نے غیر فعال اکاؤنٹس کی رقوم واپس لینے کا طریقہ کار جاری کیا۔ شہری متعلقہ بینک برانچ سے رابطہ کرکے ضروری دستاویزات جمع کرائیں۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے غیر فعال بینک اکاؤنٹس کی رقم واپس لینے کا طریقہ کار جاری کیا ہے۔ ان اکاؤنٹس میں 10 سال سے زائد عرصے سے کوئی لین دین نہیں ہوا، انہیں غیر دعویٰ شدہ ڈپازٹس قرار دیا جاتا ہے اور یہ اسٹیٹ بینک کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔
بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کے تحت تمام بینک اور ڈی ایف آئیز ایسے فکسڈ ڈپازٹس اور دیگر رقوم کو اسٹیٹ بینک کے حوالے کرنے کے پابند ہیں جو 10 سال تک غیر فعال رہیں۔ اسٹیٹ بینک نے شہریوں کی سہولت کے لیے غیر دعویٰ شدہ رقوم کی فہرست جاری کی ہے جس میں برانچ کا نام، اکاؤنٹ ہولڈر کا نام اور دیگر تفصیلات شامل ہیں۔
رقم حاصل کرنے کے لیے شہری کو متعلقہ بینک برانچ سے رابطہ کرنا ہوگا۔ درخواست گزار کو دستخط شدہ درخواست، شناختی کارڈ کی کاپی اور دیگر ضروری دستاویزات جمع کرانا ہوں گی۔ اگر اکاؤنٹ ہولڈر وفات پا چکا ہو تو جانشینی سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔
بینک برانچ درخواست اور متعلقہ ریکارڈ اسٹیٹ بینک کو بھیجے گی، تصدیق کے بعد رقم متعلقہ بینک کو واپس کی جائے گی اور پھر درخواست گزار کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوگی۔














