وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لیے 10 ارب روپے کا نیا طیارہ خریدا گیا، پنجاب حکومت کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لیے گلف اسٹریم جی 500 طیارہ خریدے جانے کی اطلاعات کے بعد ائیر پنجاب منصوبے پر سیاسی بیان بازی تیز ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق طیارے کی قیمت تقریباً 10 ارب روپے ہے اور یہ تاحال امریکی رجسٹریشن پر ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ یہ خریداری ائیر پنجاب منصوبے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت ایک مکمل فلیٹ تشکیل دے رہی ہے جس میں مختلف اقسام کے جہاز شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جہاز خریدے جائیں گے اور کچھ لیز پر لیے جائیں گے کیونکہ اسی سال ائیر پنجاب اپنی سروسز شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ادھوری بات کرنا مفتاح اسماعیل کا وطیرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیکس چوری کے معاملات پر مکمل تفصیلات بیان کی جائیں تو اسے سیاسی انتقام قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب مفتاح اسماعیل نے عظمیٰ بخاری کے ردعمل پرسوال اٹھایا کہ’’ اگر ائیر پنجاب قائم کی جا رہی ہے تو اس کی رجسٹریشن، سول ایوی ایشن سے لائسنس، دفتر اور چیف ایگزیکٹو کی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ انہوں نے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اگر ائیر پنجاب بن رہی ہے تو کہیں رجسٹر کرائی ہوگی۔ سول ایوی ایشن سے لائسنس لیا ہوگا۔ سول ایوی ایشن کو بتایا ہوگا کہ ہم ایئرلائن بنا رہے ہیں۔ اس کا کوئی دفتر ہوگا، کوئی چیف ایگزیکٹو ہوگا۔ یہ بتایا جائے کہ اس ایئرلائن کے پاس سی اے اے کا لائسنس ہے۔ دنیا میں کون کارپوریٹ جیٹ لے کر ایئرلائن شروع کرتا ہے؟ کیا پی آئی اے، ائیر بلیو، فلائی جناح یا سیرین نے کبھی کارپوریٹ جیٹ سے ایئرلائن چلائی؟‘‘
انہوں نے ٹیکس چوری کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ’’ اگر انہیں لگتا ہے کہ مفتاح اسماعیل نے ٹیکس میں کوئی کوتاہی کی ہے تو ایف بی آر نوٹس دے۔ ایک کام اور کریں، مفتاح اسماعیل اپنی زندگی اور ٹیکس ریٹرن سے سب کچھ واضح کر دیں اور ان کے لیڈر بھی اپنے ٹیکس ریٹرن پیش کریں کہ آمدن کہاں سے آتی ہے۔‘‘
طیارے کی خریداری پر سوشل میڈیا پر بھی تنقید سامنے آئی ہے اور سرکاری اخراجات کی ترجیحات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ائیر پنجاب کے قیام سے متعلق حکومتی منصوبے پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔















