رمضان میں افطاری کے دوران پکوڑوں کا استعمال جنوبی ایشیا میں بیسن کی سستی کے باعث روایت بن گیا ہے، جبکہ عرب ممالک میں کھجور سے افطار کیا جاتا ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) رمضان میں افطاری کے دوران پکوڑوں کا استعمال جنوبی ایشیا میں ایک اہم روایت بن چکا ہے۔ یہ روایت بیسن کی سستے ہونے اور دستیابی کے باعث شروع ہوئی، جو اس علاقے میں چنے کی کاشت کے سبب عام تھی۔
قدیم ہندوستان میں بیسن اور سبزیوں کو ملا کر تلنے کا رواج صدیوں پرانا ہے۔ مغل دور میں تلی ہوئی چیزوں کو خاص اہمیت ملی، جو اشرافیہ اور عوام میں یکساں مقبول تھیں۔ قدیم ہندی متون جیسے ’مانسولاسا‘ میں بھی بیسن سے بنی تلی ہوئی اشیا کا ذکر ملتا ہے۔
مغلیہ دور میں تلے ہوئے پکوانوں کو مزید فروغ ملا۔ ’آئینِ اکبری‘ میں شاہی دسترخوان پر تلی ہوئی اشیا کا ذکر ملتا ہے، جو اس روایت کی قدامت کو ظاہر کرتا ہے۔
انیسویں صدی کے اواخر میں دہلی اور لکھنؤ کے بازاروں میں رمضان کے دوران پکوڑوں کے سٹالز لگنے لگے۔ ’کے ٹی اچایا‘ کے مطابق بیسن کی تلی ہوئی اشیاء قدیم دور سے اس خطے کی غذا کا حصہ رہی ہیں۔
پکوڑے جنوبی ایشیا میں افطاری کا لازمی جزو بن چکے ہیں، جبکہ عرب ممالک میں افطاری کھجور اور پانی سے کی جاتی ہے۔















