اسرائیل کے فیصلے پر 93 ممالک اور 3 علاقائی بلاکس نے سخت ردعمل دیا، فلسطینی مشن نے اقدام کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
مقبوضہ مغربی کنارہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمین کو ریاستی اراضی قرار دینے پر 93 ممالک اور 3 علاقائی بلاکس نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ فلسطینی مشن کے مطابق، یورپی یونین، اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ سمیت 85 ممالک نے اس اقدام کو فوری واپس لینے کی اپیل کی ہے۔
اسرائیلی کابینہ نے حال ہی میں مغربی کنارے کے ایریاز اے اور بی میں سول اتھارٹی کو بڑھانے کی منظوری دی، جو تقریباً 40 فیصد علاقے پر مشتمل ہیں۔ ناقدین کے مطابق، یہ اقدام بستیوں کی توسیع اور زمینی حقائق تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے۔
آٹھ ملکی مسلم بلاک کے وزرائے خارجہ نے بیان میں زمینوں کی رجسٹریشن کے نئے طریقہ کار کو غیر قانونی بستیوں کو تیز کرنے اور فلسطینی حقوق کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے دو ریاستی حل کے خطرے کی نشاندہی بھی کی۔
اسرائیلی غیر سرکاری تنظیم پیس ناؤ نے خبردار کیا ہے کہ یروشلم کی حدود کو مغربی کنارے تک بڑھانے کی منصوبہ بندی 1967 کے بعد پہلی بڑی توسیع ہو سکتی ہے۔ مجوزہ علاقہ یروشلم سے منسلک ہوگا مگر باضابطہ بلدیاتی حدود سے باہر رہے گا۔
اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے سے 10,000 فلسطینیوں کو خصوصی اجازت نامے جاری کرنے کی سفارش کی ہے۔ واضح رہے کہ مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم طویل عرصے سے کشیدگی کا مرکز رہے ہیں اور بستیوں کا معاملہ عالمی سطح پر متنازع سمجھا جاتا ہے۔












