چین کے مبینہ خفیہ ایٹمی دھماکے پر امریکی تفصیلات

امریکی محکمہ خارجہ نے چین پر جون 2020 میں خفیہ ایٹمی دھماکے کا الزام عائد کیا، چین نے الزامات مسترد کیے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
چین کے مبینہ خفیہ ایٹمی دھماکے پر امریکی تفصیلات

واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کرسٹوفر یو نے انکشاف کیا ہے کہ چین نے جون 2020 میں اپنی ایٹمی تجربہ گاہ لوپ نور میں ایک خفیہ زیر زمین ایٹمی دھماکا کیا تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ قازقستان میں زلزلے کی پیمائش کرنے والے آلات نے اس دھماکے کو 2.75 شدت کے ساتھ ریکارڈ کیا۔

کرسٹوفر یو نے واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ ڈیٹا کے مطابق یہ کوئی معمولی دھماکا یا زلزلہ نہیں تھا بلکہ یہ ایٹمی تجربے جیسا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ چین نے دھماکے کو چھپانے کے لیے اسے ایک بڑے زیر زمین کمرے میں سر انجام دیا تاکہ دھماکے کی شدت دنیا تک نہ پہنچ سکے۔

دنیا بھر میں ایٹمی دھماکوں کی نگرانی کرنے والے ادارے ‘سی ٹی بی ٹی او’ نے اس پر محتاط موقف اختیار کیا ہے۔ ادارے کے سربراہ رابرٹ فلائیڈ کے مطابق اس دن دو چھوٹے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے لیکن وہ اتنے معمولی تھے کہ ان کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایٹمی دھماکا تھا۔

چین نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے اور اسے امریکا کی سیاسی چال قرار دیا ہے۔ چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو نے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور امریکا اپنے ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہانے تراش رہا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں