ایران نے آبنائے ہرمز میں میزائل مشقیں عارضی طور پر روک دی ہیں جبکہ جنیوا میں امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات جاری ہیں۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران نے آبنائے ہرمز میں جاری اپنی میزائل مشقیں اچانک روک دی ہیں۔ یہ فیصلہ جنیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے آغاز پر کیا گیا۔
پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں متعدد میزائل داغے تھے جنہوں نے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ امریکا کے فوجی دباؤ کے پیش نظر یہ پہلی بار ہے کہ ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کے کچھ حصے باضابطہ طور پر بند کیے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، جس کی بندش سے تجارت متاثر ہو رہی تھی۔ ایران نے جذبہ خیرسگالی کے تحت عارضی طور پر مشقیں بند کر دی ہیں، جبکہ جوہری مذاکرات جاری ہیں۔
امریکا نے اپنے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ کو مشرق وسطیٰ بھیجا ہے، جو پہلے سے موجود امریکی ابراہام لنکولن کے ساتھ شامل ہوگا۔ جوہری مذاکرات کا پہلا دور 6 فروری کو عمان میں ہوا تھا۔












