70 تنظیموں نے یورپی یونین کی امیگریشن پالیسی کو امریکی دور کی پالیسی سے تشبیہ دیتے ہوئے مخالفت کی۔
برسلز: (رائیٹ ناوٴ نیوز) انسانی حقوق کی 70 تنظیموں نے یورپی یونین کی نئی مجوزہ امیگریشن پالیسی پر شدید تنقید کی ہے، جسے انہوں نے امریکی صدر کے دور کی پالیسی سے تشبیہ دی۔ انہوں نے یورپی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ اس مسودے کو مسترد کیا جائے۔
مشترکہ خط میں تنظیموں نے خبردار کیا کہ نئی اصلاحات کے تحت رکن ممالک کو غیر دستاویزی تارکین وطن کی نشاندہی کا پابند بنایا جا سکتا ہے، جو عوامی مقامات اور سرکاری خدمات کو امیگریشن کنٹرول کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔
تنظیم PICUM کی مشیل لی ووائے نے کہا کہ یورپ کو امریکی امیگریشن اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے ویسی پالیسیاں نہیں اپنانی چاہئیں۔ یورپی کمیشن کی اصلاحات میں ایسے مراکز کے قیام کی تجویز شامل ہے جہاں مسترد شدہ پناہ گزینوں کو رکھا جا سکے، جنہیں "ریٹرن ہبز” کا نام دیا گیا ہے۔
مجوزہ پالیسی کے تحت یورپ چھوڑنے سے انکار کرنے والوں کو سخت سزائیں، طویل حراست اور شناختی دستاویزات کی ضبطی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان اصلاحات کو یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک کی حمایت حاصل ہے جبکہ یورپی پارلیمنٹ میں بائیں بازو کے ارکان اور مہاجرین کے حقوق کی تنظیمیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔












