پاکستان کی آئی ٹی برآمدات دسمبر 2025 میں 437 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ 26 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) دسمبر 2025 میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 437 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ماہانہ بنیاد پر 23 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 26 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے 6 ماہ میں آئی ٹی برآمدات 2.24 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔
آئی ٹی شعبہ 5 ارب ڈالر سالانہ ہدف کے قریب پہنچ چکا ہے۔ مارچ 2025 میں ماہانہ برآمدات 342 ملین ڈالر تھیں جو اکتوبر میں 386 ملین اور دسمبر میں 437 ملین ڈالر تک جا پہنچیں۔ مسلسل اضافے کو ماہرین ساختی مضبوطی قرار دے رہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے ایکسپورٹرز کے اسپیشل فارن کرنسی اکاؤنٹس میں رقم برقرار رکھنے کی حد 35 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کردی، جس سے کمپنیوں کو زرمبادلہ کی آمدن کا بڑا حصہ اپنے پاس رکھنے میں سہولت ملی ہے۔
آئی ٹی اور منسلک خدمات ملکی سروسز برآمدات کا 40 فیصد سے زائد حصہ بن چکی ہیں۔ فری لانسرز بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، جو سالانہ 800 ملین سے 1 ارب ڈالر تک زرمبادلہ لا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ٹی برآمدات خالص زرمبادلہ میں زیادہ حصہ ڈالتی ہیں۔ اگر ماہانہ برآمدات 400 سے 450 ملین ڈالر تک برقرار رہیں تو مالی سال کے اختتام تک مجموعی برآمدات 4.5 سے 5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
حکومتی حکمت عملی کے تحت آئندہ 3 سے 4 برس میں آئی ٹی برآمدات کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف ہے، مگر اس کے لیے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور پالیسی تسلسل کو مضبوط بنانا ہوگا۔














