ریکوڈک منصوبہ 2028 میں کمرشل پیداوار شروع کرنے کے ہدف پر قائم ہے۔ بیرک گولڈ کے 50 فیصد حصص کے ساتھ منصوبے میں مقامی معیشت کی شمولیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
کوئٹہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بلوچستان میں ریکوڈک کا تانبہ اور سونے کا منصوبہ 2028 تک کمرشل پیداوار شروع کرنے کے ہدف پر قائم ہے۔ سیکیورٹی اور مالی پیچیدگیوں کے باوجود بین الاقوامی سرمایہ کار منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔
ریکوڈک مائننگ کمپنی میں کینیڈا کی بیرک گولڈ کے 50 فیصد حصص ہیں۔ کمپنی نے منصوبے کے جائزے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معمول کا کارپوریٹ عمل ہے جس کے تحت منصوبوں کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے۔
منصوبے کے لیے 1.3 ارب ڈالر کے امریکی برآمدی قرض کی منظوری دسمبر 2025 میں دی جا چکی ہے۔ ابتدائی لاگت کا تخمینہ 4 ارب ڈالر تھا جو اب بڑھ کر تقریباً 7 ارب ڈالر ہو چکا ہے، جس سے کئی مقامی کمپنیوں کی شراکت کا امکان کم ہو گیا ہے۔
حکام کے مطابق مقامی معیشت کو شامل کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے اور بھرتیوں میں تقریباً 70 فیصد افراد بلوچستان سے لیے گئے ہیں۔
بعض سیاسی حلقوں نے منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق منصوبے کی تکمیل سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور معدنی شعبے میں اعتماد کو تقویت مل سکتی ہے۔














