قومی شاہراہ اتھارٹی کے نقصانات 2.074 کھرب روپے تک پہنچ گئے، قرضوں میں سالانہ 300 ارب روپے کا اضافہ۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی شاہراہ اتھارٹی (این ایچ اے) کے نقصانات جون 2025 تک 2.074 کھرب روپے تک پہنچ گئے ہیں جبکہ ادارے پر واجب الادا قرض 3.1 کھرب روپے سے زیادہ ہو چکا ہے۔ وزارت خزانہ کے سنٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، ٹول ٹیکس میں اضافے کے باوجود این ایچ اے وفاقی بجٹ پر بڑا مالی بوجھ بنی ہوئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ تین برسوں میں تقریباً 1.004 کھرب روپے کا خسارہ ہوا، جس میں مالی سال 2023 میں 413 ارب، جبکہ مالی سال 2024 اور 2025 میں بالترتیب 295 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ مالی سال 2025 میں این ایچ اے کی فنانسنگ لاگت 210 ارب روپے رہی، جو سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، این ایچ اے کے ذمے قرضوں میں ہر سال تقریباً 300 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا ہے، جس پر سالانہ سود 98 ارب روپے بنتا ہے اور آئندہ برسوں میں 150 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ وفاقی حکومت ان قرضوں کی ضامن ہے، جس سے مالی خطرات بڑھ رہے ہیں۔
مالی سال 2025 میں آپریٹنگ آمدن 83.1 ارب روپے اور مجموعی آمدن 119.7 ارب روپے تھی، جبکہ اخراجات 408.1 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ یوں ٹیکس سے قبل خسارہ 292.98 ارب اور ٹیکس کے بعد 294.86 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 133.8 ارب روپے کی فرسودگی لاگت اور 193.5 ارب روپے کی فنانس لاگت ادارے کے منافع کو متاثر کر رہی ہے۔ سنٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے انفراسٹرکچر بانڈز کے اجرا، نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری میں توسیع اور قرضوں کی شرائط پر نظرثانی کی سفارش کی ہے۔














