اسرائیل کا مغربی کنارے کی زمینوں کو ریاستی ملکیت قرار دینے کا فیصلہ

اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کی زمینوں کو ‘ریاستی ملکیت’ قرار دینے کی منظوری دی، جس پر فلسطینی قیادت اور کئی ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
اسرائیل کا مغربی کنارے کی زمینوں کو ریاستی ملکیت قرار دینے کا فیصلہ

تل ابیب: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو ‘ریاستی ملکیت’ قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔ اگر فلسطینی اپنی زمین کی ملکیت ثابت نہ کر سکے تو وہ زمین ریاست کے نام پر درج کی جا سکے گی۔ اس فیصلے پر فلسطینی قیادت اور خطے کے کئی ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

یہ تجویز اسرائیلی وزیر خزانہ، وزیر انصاف اور وزیر دفاع کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ اس سے زمینوں کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع ہوگا جو 1967 سے معطل تھا۔ نئی پالیسی کے تحت زمین کا دعویٰ کرنے والوں کو ملکیت کے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔

فلسطینی صدارتی دفتر نے اس اقدام کو ‘سنگین اشتعال انگیزی’ اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حماس نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو ریاستی اراضی قرار دے کر قبضے کو قانونی شکل دینا چاہتا ہے۔

یہ فیصلہ مغربی کنارے کے اُس حصے پر لاگو ہوگا جسے ‘ایریا سی’ کہا جاتا ہے۔ ایریا سی میں تین لاکھ سے زائد فلسطینی آباد ہیں اور لاکھوں افراد اپنی زرعی زمینوں کے لیے اس علاقے پر انحصار کرتے ہیں۔

اسرائیلی اینٹی سیٹلمنٹ تنظیم پیس ناؤ نے اس اقدام کو ‘بڑی زمین پر قبضے’ کے مترادف قرار دیا ہے۔ اردن، قطر، مصر اور ترکی سمیت متعدد علاقائی ممالک نے بھی اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں