کیا عمران خان کی قید پر طنز کرنے والے جنیوا کی سزائیں بھول گئے؟

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے عمران خان کی قید اور صحت پر طنزیہ بیان کے بعد سوئس عدالتوں میں ان کے اپنے خلاف چلنے والے مقدمات ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئے ہیں۔ جنیوا کی عدالتوں کے تحریری فیصلوں کے مطابق بینظیر بھٹو اور آصف زرداری پر منی لانڈرنگ اور غیر قانونی کمیشن وصول کرنے کے الزامات ثابت ہوئے، جن میں آف شور کمپنیوں، بینک اکاؤنٹس اور تحریری معاہدوں کے ذریعے لاکھوں ڈالر کی رقوم منتقل کی گئیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
آصف زرداری کے جنیوا مقدمات اور عمران خان کی قید پر طنز

رحیم یار خان: (رائیٹ ناوٴ نیوز) صدر مملکت آصف علی زرداری نے خطاب کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور صحت کی شکایات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ‘ریاست مدینہ والا کبھی آنکھ کے درد کا رونا روتا ہے اور کبھی دودھ نہ ملنے کا شکوہ کرتا ہے’۔

اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک بنیادی سوال پھر سامنے آ گیا۔ وہ کون سی قید تھی جسے آصف زرداری قربانی قرار دیتے ہیں، اور وہ کون سے مقدمات تھے جن میں خود آصف زرداری اور ان کی اہلیہ بینظیر بھٹو کو پاکستان نہیں بلکہ سوئٹزرلینڈ کی عدالتوں سے سزا سنائی گئی۔اس سوال کا جواب تقاریر میں نہیں بلکہ جنیوا کی عدالتوں کے تحریری فیصلوں میں موجود ہے۔

جنیوا میں دو مقدمات، ایک طریقۂ کار

سوئس عدالتوں کے مطابق بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف دو الگ مقدمات چلے۔ ایک مقدمہ منی لانڈرنگ سے متعلق تھا جبکہ دوسرا غیر قانونی کمیشن یا کِک بیکس وصول کرنے کا۔ دونوں مقدمات میں تین عناصر مشترک رہے۔ جنیوا کا وکیل جینس شلیگل مِخ، برٹش ورجن آئی لینڈز میں قائم آف شور کمپنیاں، اور پاکستان کے سرکاری معاہدوں  کے بدلے میں ذاتی فوائد کا حصول۔

سوئس عدالتوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلے کسی پاکستانی سیاسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ آزاد عدالتی نظام، سوئس پولیس کی تحقیقات اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق کیے گئے۔

کوٹیکنا معاہدہ اور پہلا مالی فائدہ

کہانی کا آغاز 1990 سے ہوتا ہے، جب بینظیر بھٹو وزیرِاعظم تھیں۔ اسی دوران سوئس کمپنی کوٹیکنا انسپیکشن ایس اے کو پاکستان میں کسٹمز نگرانی اور معائنہ کا اختیار دیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اس معاہدے کے تحت پاکستان کی جانب سے ادا کی جانے والی رقوم کا 6 فیصد جنیوا میں برکلیز بینک کے ایک اکاؤنٹ میں منتقل کیا گیا۔ یہ اکاؤنٹ مارِسٹن سیکیورٹیز نامی آف شور کمپنی کا تھا، جو برٹش ورجن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ تھی۔

سوئس عدالت کے مطابق اس کمپنی کی اصل مالک  بینظیر بھٹو کی والدہ نصرت بھٹو تھیں، جبکہ  کاغذوں میں جینس شلیگل مِخ بظاہر اس کمپنی کے مالک تھا۔ اس ایک معاہدے کے دوران بارہ لاکھ ڈالر سے زائد رقم آف شور اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی۔

اقتدار کی واپسی اور کمیشن کا نیا نظام

انیس نومبر 1993 کو بینظیر بھٹو دوبارہ وزیرِاعظم بنیں۔ اسی مرحلے پر ایک اور سوئس کمپنی سوسائٹی جنرل ڈی سرویلنس، جسے ایس جی ایس کہا جاتا ہے، پاکستان میں سرگرم ہوئی۔ سوئس عدالتی ریکارڈ میں ایس جی ایس کے اندرونی میموز شامل ہیں جن میں صاف لکھا گیا کہ پاکستان میں فیصلے بیوروکریسی نہیں بلکہ سیاسی قیادت کرتی ہے۔ ان دستاویزات میں آصف زرداری کو غیر رسمی طور پر طاقت کا مرکز قرار دیا گیا اور یہ درج ہے کہ سیاسی منظوری ملنے کے بعد انتظامی مخالفت بے اثر ہو جاتی ہے۔

جنیوا میں ملاقات اور روابط

عدالتی فیصلے کے مطابق جنوری 1994 میں آصف زرداری اور جینس شلیگل مِخ کی ملاقات جنیوا میں صدرالدین آغا خان کی رہائش گاہ پر ایک عشائیے کے دوران ہوئی۔ شلیگل مِخ نے تفتیش میں بتایا کہ اسی ملاقات کے بعد کوٹیکنا اور ایس جی ایس کے ساتھ رابطے تیز کیے گئے۔ عدالتی ریکارڈ میں آغا خان پر کسی مالی الزام کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم اس ملاقات کے مقام کے طور پر ان کی رہائش گاہ کا اندراج موجود ہے۔

تحریری معاہدے اور کمیشن کی شرح

سوئس عدالتی فیصلوں کے مطابق 11 مارچ 1994 کو ایسے معاہدے طے پائے جن کے تحت اگر پاکستان کا کنٹریکٹ ملا تو ایس جی ایس شلیگل مِخ کو ایک فیصد کمیشن ادا کرے گی۔ 29 جون 1994 کو کوٹیکنا کی جانب سے مزید خطوط جاری کیے گئے جن میں کمیشن کی تفصیل درج تھی۔ ان خطوط کے مطابق 6 فیصد آف شور کمپنی بومر یا مارِسٹن کو، 3 فیصد نَسام اوورسیز کو، جبکہ 1.25 فیصد خود شلیگل مِخ کو ملنا تھا۔ یہ تمام معاہدے تحریری تھے اور بعد میں عدالت میں بطور ثبوت پیش کیے گئے۔

اسلام آباد میں فیصلے اور بیوروکریسی کا کردار

جون 1994 میں اسلام آباد میں متعدد اجلاس منعقد کیے گئے جن کی براہِ راست نگرانی آصف علی زرداری نے کی۔ یہ اجلاس معمول کے سرکاری اجلاس نہیں تھے بلکہ ان کا مقصد پاکستان میں پری شپمنٹ انسپیکشن کے بڑے کنٹریکٹ پر حتمی فیصلہ کرنا تھا، جس کے لیے سوئس کمپنیاں ایس جی ایس اور کوٹیکنا سرگرم تھیں۔ سوئس عدالتی تفتیش کے مطابق یہ معاملہ اس مرحلے پر مکمل طور پر سیاسی نوعیت اختیار کر چکا تھا۔ عدالتی ریکارڈ میں بتایا گیا کہ حکومت کے اندر یہ تاثر مضبوط ہو چکا تھا کہ اس معاہدے کا فیصلہ بیوروکریسی نہیں بلکہ اعلیٰ سیاسی قیادت کرے گی۔

کسٹمز حکام اور متعلقہ سرکاری افسران نے معاہدے کی شرائط، ایک ساتھ دو غیر ملکی کمپنیوں کو ذمہ داری دینے اور ریاستی مفاد پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا موقف تھا کہ انتظامی اور مالی پہلوؤں پر مزید غور ضروری ہے۔ تاہم ان تحفظات کو فیصلہ سازی میں اہمیت نہیں دی گئی۔

سوئس تفتیش میں ایس جی ایس کے نمائندے نے واضح کیا کہ چونکہ یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا، اس لیے اجلاسوں کی قیادت کسی سرکاری افسر کے بجائے ایک سیاسی شخصیت نے کی۔ اسی تناظر میں آصف زرداری نے ان اجلاسوں کی نگرانی کی، حالانکہ اس وقت ان کے پاس کوئی آئینی یا سرکاری عہدہ موجود نہیں تھا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ان اجلاسوں کا مقصد سیاسی منظوری حاصل کرنا تھا، کیونکہ ایک بار سیاسی فیصلہ ہو جانے کے بعد انتظامی مخالفت کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔

کسٹمز کی مخالفت اور معاہدے کی منظوری

سوئس عدالت کے مطابق 29 ستمبر 1994 کو بینظیر بھٹو نے، جو اس وقت وزیرِاعظم کے ساتھ وزیرِ خزانہ بھی تھیں، کسٹمز محکمے کی مخالفت کے باوجود یہ کنٹریکٹ ایس جی ایس اور کوٹیکنا کے حق میں منظور کیا۔

یہ معاہدہ یکم جنوری 1995 سے نافذ ہوا اور بعد میں دونوں کمپنیوں نے اسے برابر کی بنیاد پر تقسیم کر لیا۔

رقوم کی ادائیگی اور پچاس پچاس  فیصد کے حصہ دار کون؟

سوئس عدالت کے مطابق مئی 1995 سے ستمبر 1997 کے دوران کمیشن کی رقوم مسلسل ادا ہوتی رہیں۔ بومر فنانس کے اکاؤنٹ میں 81 لاکھ ڈالر سے زائد، نَسام اوورسیز کے اکاؤنٹ میں 38 لاکھ ڈالر سے زائد، جبکہ شلیگل مِخ کو 15 لاکھ ڈالر سے زیادہ ادا کیے گئے۔ شلیگل مِخ نے تفتیش میں تسلیم کیا کہ بومر کے اکاؤنٹ میں رقوم کی تقسیم صاف درج تھی۔ پچاس فیصد آصف زرداری اور پچاس فیصد بینظیر بھٹو۔

ہیرے کا ہار اور سوئس ضبطگی

عدالتی ریکارڈ کے مطابق اگست 1997 میں لندن سے ایک قیمتی ہیرے کا ہار خریدا گیا، جس کی قیمت ایک لاکھ سترہ ہزار کے قریب تھی۔ ادائیگی جزوی نقد اور جزوی بومر اکاؤنٹ کے ذریعے کی گئی۔ یہ ہار بعد ازاں جنیوا کے ایک بینک لاکر سے ضبط کر لیا گیا۔

عدالت کا فیصلہ اور سزائیں

سوئس عدالت نے قرار دیا کہ یہ تمام رقوم عوامی مفاد کے غلط استعمال کے ذریعے حاصل کی گئیں اور انہیں منی لانڈرنگ کے زمرے میں رکھا گیا۔ تقریباً بارہ ملین ڈالر ضبط کر کے پاکستان منتقل کرنے کا حکم دیا گیا جبکہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو چھ ماہ قید کی معطل سزا سنائی گئی۔

آج آصف علی زرداری عمران خان کی قید، بیماری اور جیل کی سہولیات پر طنز کرتے دکھائی دیتے ہیں اور خود کو قربانی کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر جنیوا کی عدالتوں میں محفوظ عدالتی ریکارڈ ایک بالکل مختلف تصویر دکھاتا ہے۔ ایک طرف وہ مقدمات ہیں جو مقامی سطح پر سیاسی ماحول، حکومتی دباؤ اور داخلی کشمکش کے سائے میں بنے، اور دوسری طرف وہ فیصلے ہیں جو غیر ملکی عدالتوں میں تاریخوں، رقوم، بینک اکاؤنٹس، آف شور کمپنیوں اور تحریری معاہدوں کی بنیاد پر سنائے گئے۔ یہی وہ تضاد ہے جو آصف زرداری کے قول اور فعل کے درمیان واضح لکیر کھینچ دیتا ہے، اور یہی فرق اس پوری کہانی کا اصل خلاصہ ہے۔

 

دیگر متعلقہ خبریں