عثمان طارق کے باؤلنگ ایکشن پر ماہرین کی رائے منقسم کیوں؟

عثمان طارق کے باؤلنگ ایکشن میں مختصر وقفہ کرکٹ کی دنیا میں موضوع بحث ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدرتی تکنیک کا حصہ ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
عثمان طارق کے باؤلنگ ایکشن پر ماہرین کی رائے منقسم

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عثمان طارق کے باؤلنگ ایکشن میں مختصر وقفہ کرکٹ کی دنیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے، خاص کر روایتی حریفوں کے مقابلے سے قبل۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وقفہ ان کی قدرتی باؤلنگ تکنیک کا حصہ ہے، نہ کہ کسی حریف کو الجھانے کی کوشش۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طارق ہر گیند پر یکساں انداز میں توقف کرتے ہیں، جو ان کے رن اپ کا باقاعدہ حصہ ہے۔بھارتی کھلاڑی روی چندرن ایشون کا خیال ہے کہ جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایسے حربے باؤلرز کے ہتھیار کا حصہ ہونا چاہئیں۔

ایک اہم پہلو ان کی کہنی کا خم بھی ہے۔ طارق کا کہنا ہے کہ ان کی کہنی میں قدرتی طور پر دو زاویے موجود ہیں، جس کی وجہ سے ایکشن نمایاں ہے۔ ماضی میں متھیا مرلی دھرن کا باؤلنگ ایکشن بھی اسی نوعیت کی بحث کا مرکز رہا، تاہم سائنسی معائنے نے اسے قانونی قرار دیا تھا۔

عثمان طارق کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے منظور شدہ بائیو مکینکس لیبارٹری میں جانچا جا چکا ہے۔ جانچ میں باؤلرز کو مخصوص سینسرز کے ساتھ تین اوورز کروانے ہوتے ہیں تاکہ ان کی رفتار، گیند کی گردش اور بازو کے زاویے کا تجزیہ کیا جا سکے۔

کپتان سلمان آغا نے طارق کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ دو مرتبہ کلیئر ہو چکے ہیں اور تنقید سے متاثر نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ طارق بین الاقوامی کیریئر کے آغاز سے ہی اس نوعیت کی باتوں کے عادی ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں