اسپیس ایکس، بلیو اوریجن اور چین چاند پر انسانی مشن کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں، جس سے خلائی مقابلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔
رائیٹ ناوٴ نیوز: اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک اور بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس کے درمیان چاند پر دوبارہ انسانوں کو اتارنے کی دوڑ تیز ہو گئی ہے۔ دونوں کمپنیاں چاند پر مستقل رہائش کے قیام کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ چین بھی 2030 تک انسان بردار مشن بھیجنے کا ہدف مقرر کر چکا ہے، جس سے خلائی مقابلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
ایلون مسک نے چاند پر "مون بیس الفا” قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو مصنوعی ذہانت پر مبنی سیٹلائٹ نیٹ ورک کے قیام میں مدد دے گا۔ دوسری جانب، جیف بیزوس کی کمپنی بلیو اوریجن نے بھی اپنے وسائل کو "بلو مون” لینڈر پروگرام کی طرف منتقل کر دیا ہے، جو مستقبل میں خلا بازوں کی لینڈنگ کی راہ ہموار کرے گا۔
یہ سرگرمیاں ناسا کے آرٹیمس پروگرام کا حصہ ہیں، جس کا مقصد چاند پر دوبارہ انسانوں کو بھیجنا اور وہاں طویل مدتی قیام کی تیاری کرنا ہے۔ ناسا اس منصوبے کو مریخ کے مستقبل کے مشنوں کی تیاری کے طور پر دیکھتا ہے اور دونوں کمپنیوں کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔
امریکا اس دوڑ کو چین کے مقابلے کے تناظر میں بھی دیکھ رہا ہے، کیونکہ چین نے 2030 تک چاند پر اپنے خلا باز اتارنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اگر کسی کمپنی نے پہلے چاند پر بنیادی ڈھانچہ قائم کر لیا تو اسے مستقبل میں وہاں سرگرمیوں کے استعمال اور سمت کے تعین میں برتری حاصل ہو سکتی ہے۔












