بنگلہ دیش میں کل 13 ویں پارلیمانی انتخابات ہوں گے، جہاں جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
ڈھاکا: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بنگلہ دیش میں 13 ویں پارلیمانی انتخابات اور آئینی ترامیم کے لیے قومی ریفرنڈم کل 12 فروری 2026 کو منعقد ہوں گے۔ یہ شیخ حسینہ کی سول آمریت کے خاتمے کے بعد پہلے انتخابات ہیں، جہاں جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
انتخابات میں 2000 امیدوار 350 نشستوں کے لیے حصہ لے رہے ہیں جن میں 1400 پہلی بار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ انتخابی کمیشن کے مطابق، 600 سے زائد امیدوار 44 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔
سروے کے مطابق، طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی سب سے مضبوط جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، جبکہ جماعت اسلامی بی این پی کو سخت مقابلہ دے رہی ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں کا اتحاد ہے اور تجزیات کے مطابق ووٹوں کا فرق کم (تقریباً 2 فیصد) رہ سکتا ہے۔
نیشنل سٹیزن پارٹی، جو 2024 کی طلبہ تحریک کی قیادت کرتی تھی، بھی جماعت اسلامی کے اتحاد کا حصہ ہے اور نوجوان ووٹرز میں مقبول ہے۔
سروے کے مطابق بی این پی اتحاد کو 44.1 فیصد جبکہ جماعت اسلامی کے زیر قیادت اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ 105 حلقوں میں جماعت اسلامی اتحاد کی کامیابی متوقع ہے جبکہ بی این پی اتحاد کو 101 نشستوں پر برتری حاصل ہو سکتی ہے۔













