حکومت نے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز بڑھا کر 132 ارب روپے اضافی وصول کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جبکہ اس رقم کا بڑا حصہ صنعتی شعبے کو ریلیف دینے کے لیے منتقل کیا جائے گا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حکومت نےپروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز بڑھا کر سالانہ 132 ارب روپے اضافی وصول کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے، جبکہ اس رقم کا بڑا حصہ صنعتی شعبے کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے منگل کو پاور ڈویژن کی درخواست پر عوامی سماعت کی، جس میں پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے حکام نے مجوزہ نرخوں اور فکسڈ چارجز کا خاکہ پیش کیا۔
منصوبے کے تحت اب ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز لاگو ہوں گے، جن میں پروٹیکٹڈ صارفین بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل صرف 300 یونٹ سے زائد استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فکسڈ چارج عائد تھا۔
پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے 100 یونٹ تک استعمال پر 200 روپے ماہانہ اور 200 یونٹ تک استعمال پر 300 روپے فکسڈ چارج کی تجویز ہے۔ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے 100 یونٹ تک 275 روپے، 200 یونٹ تک 300 روپے اور 300 یونٹ تک 350 روپے ماہانہ فکسڈ چارج مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
زیادہ استعمال کرنے والوں کے لیے بھی نئے نرخ تجویز کیے گئے ہیں۔ 301 سے 400 یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے فکسڈ چارج 200 روپے سے بڑھا کر 400 روپے، جبکہ 401 سے 500 یونٹ والوں کے لیے 400 سے بڑھا کر 500 روپے کرنے کی تجویز ہے۔ 600 یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے فکسڈ چارج 600 سے بڑھا کر 675 روپے کیا جائے گا۔
البتہ 700 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے 125 روپے کمی کر کے فکسڈ چارج 675 روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 700 یونٹ سے زائد استعمال کرنے والوں کے لیے 325 روپے کمی کے بعد فکسڈ چارج 675 روپے ہوگا۔
حکام کے مطابق ان نئے فکسڈ چارجز سے سالانہ 101 ارب روپے حاصل ہوں گے جو صنعتی شعبے کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے، تاکہ برآمدات میں مسابقت بہتر ہو سکے۔
گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ نرخوں میں بھی کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس میں 400 یونٹ استعمال کرنے والوں کو 1.53 روپے فی یونٹ، 500 یونٹ تک 1.25 روپے، 600 یونٹ تک 1.40 روپے کمی ملے گی۔














