خالد مشعل نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی قبضے کے دوران اسلحہ حوالے کرنے کا مطالبہ ناقابلِ قبول ہے اور غیر مسلحی فلسطینی عوام کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔
دوحہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حماس کے بیرونِ ملک سیاسی سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے کہ جب تک غزہ پر اسرائیلی قبضہ برقرار ہے، فلسطینی مزاحمتی گروہوں سے اسلحہ حوالے کرنے کا مطالبہ ناقابلِ قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیرِ قبضہ عوام کو غیر مسلح کرنا انہیں ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔
خالد مشعل نے دوحہ میں الجزیرہ فورم کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حماس سے ہتھیار چھیننے کی بحث فلسطینی مسلح مزاحمت کو غیر مؤثر بنانے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبضے کی موجودگی میں غیر مسلحی فلسطینی عوام کو آسان ہدف بنا دے گی۔
ان کے مطابق اگر اس موضوع پر بات کرنی ہے تو پہلے ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جو تعمیرِ نو، امداد اور جنگ کے دوبارہ نہ بھڑکنے کی ضمانت دے۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے قطر، ترکیہ اور مصر کی ثالثی میں اپنے مؤقف سے آگاہ کیا ہے اور اس کا حل غیر مسلحی نہیں بلکہ عملی ضمانتوں میں ہے۔
خالد مشعل نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں بھی حماس کے مؤقف پر تفہیم پائی گئی ہے، تاہم اس عمل کے لیے سنجیدہ کوشش درکار ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ حماس ضمانتیں نہیں دیتی، بلکہ مسئلہ اسرائیل ہے جو فلسطینی اسلحہ چھین کر افراتفری پیدا کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ حماس نے 5 سے 10 سال تک طویل جنگ بندی کی تجویز دی ہے، جو اس بات کی ضمانت ہوگی کہ ہتھیار استعمال نہیں ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصل مسئلہ قبضہ ہے اور اس کے خلاف مزاحمت اقوامِ متحدہ کے اصولوں اور عالمی قوانین کے مطابق ایک حق ہے۔














