سردار اختر مینگل نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے پر آواز اٹھانے پر انہیں غدار کہا گیا جبکہ ملک توڑنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے پر سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے پر انہیں غدار کہا گیا جبکہ ملک کو توڑنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی۔
سردار اختر مینگل نے لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے 8 فروری کے الیکشن کے بعد بلوچستان کی مصنوعی قیادت بنائی گئی، جس پر آج احتجاج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ احتجاج کریں گے تو ایمان مزاری کی طرح ایک ٹویٹ پر 17 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے، جبکہ ملک کو توڑنے والوں کو کوئی سزا نہیں ملتی۔
اختر مینگل نے مزید کہا کہ جنہیں دہشت گرد کہا جاتا ہے، ان کے ساتھ عوام سیلفیاں بناتے ہیں، جبکہ کسی وزیر کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں نے ان کو ویلکم کیا اور مسائل کا حل سمجھا، لیکن نفرت کی دیواریں کھڑی کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اب پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکا ہے اور اس کی ذمہ دار ریاست ہے۔ 1973 میں جو نعرہ ‘ادھر ہم ادھر تم’ لگایا تھا، وہی نعرے اب دوبارہ سنائی دے رہے ہیں۔















