ترلائی، اسلام آباد میں امام بارگاہ حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 36 ہوگئی۔ 160 سے زائد زخمی زیر علاج، مزید ہلاکتوں کا خدشہ۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ پر خودکش حملے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 36 ہوگئی ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 160 سے زائد زخمی زیرِ علاج ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل کے مطابق ہفتے کو ایک 21 سالہ زخمی دم توڑ گیا، جس سے جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ پمز میں جمعے کو 149 زخمیوں اور 28 میتوں کو لایا گیا تھا، جبکہ ایچ بی ایس اسپتال میں مزید 3 اموات کی تصدیق ہوئی۔
حملہ جمعے کی نماز کے دوران کیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کو داخلی دروازے پر روکا گیا، جس کے بعد اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملے سے قبل رضاکار سیکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آور کے درمیان فائرنگ بھی ہوئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کے سہولت کاروں سے متعلق اہم پیش رفت ہو چکی ہے اور جلد عوام کو تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور کی شناخت ہو چکی ہے اور تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں۔
نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کے رہنماؤں اور مختلف مکاتبِ فکر کے علما نے پمز میں زخمیوں کی عیادت کی اور قومی یکجہتی پر زور دیا۔ کمیٹی کے کوآرڈینیٹر علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔
حملے کے شہدا کی نمازِ جنازہ اور تدفین سخت سیکیورٹی کے تحت کی گئی۔ 13 شہدا کی اجتماعی نمازِ جنازہ وفاقی دارالحکومت میں ادا کی گئی، جبکہ دیگر شہدا کی نمازِ جنازہ ترلائی، جی-9 اور دیگر علاقوں میں ادا ہوئی۔














