اسلام آباد میں امام بارگاہ دھماکہ، سکیورٹی ناکامی پر سوالات۔ نومبر کے بعد دوسرا بڑا حملہ، سخت انتظامات کے باوجود پیش آیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) جمعے کو ترلائی امام بارگاہ میں ہونے والا خودکش دھماکہ، تین ماہ کے دوران وفاقی دارالحکومت میں دوسرا بڑا دہشت گرد حملہ ہے۔ یہ حملہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے سخت سکیورٹی اقدامات کے باوجود ہوا۔ اس سے پہلے 11 نومبر کو جی-11 میں جوڈیشل کمپلیکس کے سامنے خودکش حملے میں 12 افراد جاں بحق اور کم از کم 36 زخمی ہوئے تھے۔
نومبر کے واقعے کے بعد شہر میں پولیس ناکے قائم کیے گئے اور اہم سڑکوں پر بیریئر لگا کر مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی کی گئی جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ترلائی امام بارگاہ حملے کے بعد پمز اسپتال پہنچنے والے لواحقین نے سکیورٹی اداروں کی ناکامی پر غم و غصے کا اظہار کیا۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ واقعہ مضافاتی علاقے میں ہوا جہاں سکیورٹی انتظامات محدود تھے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ شہر میں سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مشکوک افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ دیہات میں انٹیلی جنس پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے، جو دہشت گردوں کے عارضی پناہ گاہیں بن جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ 11 نومبر کے حملے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے اعلان کیا تھا کہ دو ہفتوں کے اندر اسلام آباد میں بغیر ای-ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے گی۔ سیف سٹی اتھارٹی کے تحت ای-ٹیگ ریڈرز اور کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ گاڑیوں کی نگرانی کی جا سکے۔














