امریکہ کی ایران سے تیل برآمدات پر نئی پابندیاں عائد

امریکہ نے ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جس میں 14 بحری جہازوں پر پابندی شامل ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
امریکہ کی ایران کی تیل برآمدات پر نئی پابندیاں عائد

واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکہ نے ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان عمان میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے اختتام کے فوراً بعد سامنے آیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایران کے تیل کی ترسیل میں استعمال ہونے والے 14 بحری جہازوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے لین دین پر پابندی عائد کی جائے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پیگوٹ نے کہا کہ ایران تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو دنیا بھر میں عدم استحکام پھیلانے اور ملک کے اندر جبر بڑھانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی غیر قانونی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کو کم سے کم سطح تک لانے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر کاربند ہیں۔

محکمہ خارجہ کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے جہاز ترکی، بھارت اور متحدہ عرب امارات کے پرچم بردار ہیں۔ اس کے علاوہ 15 اداروں اور دو افراد پر بھی امریکی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکہ پہلے ہی دیگر ممالک پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ ایرانی تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کریں۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ نے عمان میں امریکی نمائندوں کے ساتھ جوہری پروگرام پر بالواسطہ ملاقات کے بعد بات چیت کے ماحول کو مثبت قرار دیا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور خطے میں امریکی بحری موجودگی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی طاقتیں اور خطے کے ممالک اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اور تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے تیل پیدا کرنے والے خطے تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں