وفاقی حکومت نے بجلی کے بنیادی ٹیرف اور فکسڈ چارجز میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، جس میں صارفین کے لیے مختلف تجاویز شامل ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حکومت نے صنعتی شعبے کو بجلی کے نرخوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے گھریلو صارفین پر ماہانہ فکسڈ چارج عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت 28.5 ملین سے زائد گھریلو صارفین سے 200 سے 675 روپے ماہانہ فکسڈ چارج وصول کر کے تقریباً 125 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے، جن سے صنعت کے لیے 4.04 روپے فی یونٹ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
نظرثانی شدہ شیڈول آف ٹیرف جمعہ کی شام نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی میں جمع کرا دیا گیا، جسے فوری عمل درآمد کے لیے عوامی سماعت کے نوٹس پر بھی رکھ دیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق اس فیصلے کی منظوری وفاقی کابینہ نے 4 فروری کو دی تھی، جبکہ یہ اقدام آئی ایم ایف سے طے شدہ بجٹ سبسڈی اہداف کو متاثر کیے بغیر کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے تحت 100 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے تقریباً 9.9 ملین صارفین پر 200 روپے، جبکہ 200 یونٹ تک استعمال کرنے والے 6.1 ملین محفوظ صارفین پر 300 روپے ماہانہ فکسڈ چارج عائد کیا جائے گا۔ ان صارفین کو چھ ماہ تک مقررہ حد میں رہنے کی صورت میں بالترتیب 10.54 اور 13 روپے فی یونٹ اوسط نرخ کی سہولت حاصل رہے گی۔
غیر محفوظ صارفین میں 100 یونٹ کی حد ایک بار بھی عبور کرنے پر تقریباً 5.7 ملین صارفین پر 275 روپے فکسڈ چارج لاگو ہوگا، جبکہ ان کے فی یونٹ نرخ 22.44 روپے سے زائد ہوں گے۔ 201 سے 300 یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے 350 روپے، 301 سے 400 یونٹ والوں کے لیے 400 روپے، 401 سے 500 یونٹ والوں کے لیے 500 روپے اور 500 یونٹ سے زائد استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 675 روپے ماہانہ فکسڈ چارج مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ بجلی کے نظام میں فکسڈ اخراجات زیادہ ہونے اور سولر سسٹمز کے بڑھتے استعمال کے باعث موجودہ ٹیرف ڈھانچہ غیر متوازن ہو چکا ہے، جس سے دیگر صارفین پر بوجھ بڑھ رہا تھا۔ اس لیے فکسڈ اور ویری ایبل چارجز میں رد و بدل کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے تاکہ طویل مدت میں نظام کو مالی طور پر مستحکم بنایا جا سکے۔
اسی دوران نیپرا نے دسمبر 2025 کے لیے مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں فروری کے بلوں میں فی یونٹ تقریباً 1.21 روپے اضافہ ہوگا۔ یہ اضافہ لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ صارفین کے علاوہ تمام کیٹیگریز پر لاگو ہوگا۔
واضح رہے کہ حالیہ فیصلے پر مختلف کاروباری حلقوں، بالخصوص ٹیکسٹائل انڈسٹری اور ایف پی سی سی آئی نے تنقید کی تھی، جس کے بعد وزیراعظم نے برآمدی شعبے کے لیے 4.04 روپے فی یونٹ ریلیف کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کے مطابق اب بجلی کے نرخوں کی سالانہ نظرثانی ہر سال یکم جنوری کو کی جائے گی تاکہ زیادہ استعمال کے مہینوں میں صارفین پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔















