اسلام آباد کے ترلائی میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے سے 31 افرادشہید ہوگئے، شہر بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نماز جمعہ کے دوران ایک دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 31 افراد شہید اور 169 سےزائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ دھماکا ترلائی کی ایک امام بارگاہ کے احاطے میں پیش آیا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق دھماکے میں 31 افراد شہید اور 169 افراد زخمی ہوئے، دھماکے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔پولیس، ریسکیو ٹیمیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بم اسکواڈ فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر پمز اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
*اسلام آباد دھماکہ/ضلعی انتظامیہ بیان*
دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد میں اضافہ, مجموعی طور پر 31 افراد جاں کی بازی ہار گئے، دھماکے کے بعد ہسپتال لائے گئے زخمیوں کی تعداد 169 ہو گئی
— DC Islamabad (@dcislamabad) February 6, 2026
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری پمز اسپتال پہنچ گئے۔ وزیر مملکت نے دھماکے میں زخمی ہونے والے زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی۔
طلال چوہدری نے دھماکے کے زخمیوں کے لیے خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زخمی مریضوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امام بارگاہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا جبکہ اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کی۔ وزیرِ اعظم نے شہداء کی بلندی درجات اور انکے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی، انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم ے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور وزیر صحت کو خود نگرانی کرنے کا حکم دیا۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمہ داران کو تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے، ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔
سربراہ مجلس وحدت المسلمین علامہ راجا ناصر عباس نے ترلائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے افسوسناک دھماکے اور بے گناہ نمازیوں کی شہادت پر میں دلی طور پر نہایت غمزدہ اور رنجیدہ ہوں۔
راجا ناصرعباس نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں اس نوعیت کی دہشت گردانہ کارروائی نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ میں سنگین ناکامی کا ثبوت ہے۔
آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر پورے شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے اور تحقیقات کو آگے بڑھایا جا سکے۔















