اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن کو حتمی شکل دے دی، جن میں بہتر سیکیورٹی فیچرز شامل ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بدھ کے روز مطلع کیا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کو حتمی شکل دے دی ہے، جن میں بہتر سیکیورٹی فیچرز شامل ہیں۔ ان نوٹس کے ڈیزائن وفاقی کابینہ کو منظوری کے لیے ارسال کر دیے گئے ہیں۔
قائمہ کمیٹی کا اجلاس سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں ہوا، جس میں مختلف مالیاتی امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے بتایا کہ نئے بینک نوٹس کے ڈیزائن اسٹیٹ بینک بورڈ سے منظور ہو چکے ہیں اور ان کا مقصد جعلی کرنسی کی روک تھام ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین نے پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے یاد دلایا کہ کرنسی نوٹس کو جدید بنانے اور سیکیورٹی فیچرز مضبوط کرنے کی سفارش طویل عرصے سے زیر غور تھی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد دو سے تین مالیتوں کے نئے نوٹس ایک ساتھ چھاپے جائیں گے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ کون سی مالیت کے نوٹس سب سے پہلے جاری ہوں گے، اس پر فی الحال تفصیلات نہیں بتائی جا سکتیں۔ اس وقت 10، 20، 50، 75، 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے نوٹس گردش میں ہیں۔















