حکومت نے سپر ٹیکس واجبات اقساط میں وصول کرنے کے عندیہ دیا ہے تاکہ کاروباری اداروں کو سہولت مل سکے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جائزہ مشن کی آمد سے قبل کاروباری اداروں کو سہولت دینے کے لیے 217 ارب روپے کے سپر ٹیکس واجبات اقساط میں وصول کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد واجب الادا سپر ٹیکس کی اصل رقم 217 ارب روپے ہے۔
چیئرمین ایف بی آر کے مطابق سپر ٹیکس 2015 میں نافذ کیا گیا تھا اور بعض کاروباری اداروں نے حکمِ امتناع حاصل کر رکھا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے حکومت کے ٹیکس عائد کرنے کے اختیار کو برقرار رکھا۔ کاروباری برادری پر ٹیکس بوجھ کے تحفظات پر سینیٹرز نے تجویز دی کہ وصولی کم از کم 2 سے 3 سال میں کی جائے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا تیسرا جائزہ مشن فروری کے آخر میں متوقع ہے اور پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات پوری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے بات چیت جاری ہے جبکہ چینی مارکیٹ میں بانڈ کے اجرا کا منصوبہ ہے۔















