امریکا اور یورپی یونین کے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے سے پاکستان کی کاٹن صنعت دباؤ میں ہے، فوری حکومتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی کے بعد پاکستان کی کاٹن اور ٹیکسٹائل صنعت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ صنعتکاروں نے خبردار کیا ہے کہ فوری حکومتی اقدامات کے بغیر برآمدات میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے۔
کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق کے مطابق اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ہنگامی بنیادوں پر کاٹن اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے ہدفی اقدامات نہ کیے تو پاکستان عالمی منڈی میں اپنی مسابقتی پوزیشن مزید کھو دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی میں تاخیر سے علاقائی حریف ممالک کے ساتھ لاگت کا فرق مزید بڑھ جائے گا۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 31 جنوری 2026 تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد میں 0.62 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی آمد 5.545 ملین گانٹھوں تک پہنچ گئی۔ اس دوران پنجاب میں 2.63 ملین جبکہ سندھ اور بلوچستان میں 2.915 ملین گانٹھیں جننگ فیکٹریوں تک پہنچیں، جو بالترتیب 3 فیصد کمی اور 4 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔
جائزہ مدت کے دوران ٹیکسٹائل ملوں نے 4.987 ملین گانٹھیں خریدیں، جبکہ برآمد کنندگان نے 178 ہزار گانٹھیں حاصل کیں۔ اس وقت جننگ فیکٹریوں کے پاس تقریباً 380 ہزار گانٹھیں فروخت کے لیے موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سندھ میں صرف 16 جننگ فیکٹریاں فعال ہیں، جبکہ پنجاب میں یہ تعداد 84 ہے، جو علاقائی عدم توازن کو ظاہر کرتی ہے۔
احسان الحق نے مزید بتایا کہ حکومت نے 2025-26 کے لیے کپاس کی پیداوار کا ہدف 10.2 ملین گانٹھیں مقرر کیا تھا، تاہم مجموعی قومی پیداوار اب تقریباً 5.6 ملین گانٹھوں تک محدود رہنے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر ڈیوٹی صفر کیے جانے اور امریکا کی طرف سے بھارتی برآمدات پر ٹیرف 50 فیصد سے کم ہو کر 18 سے 25 فیصد تک آنے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی مصنوعات کو امریکی منڈی میں اب بھی 19 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، جس سے قیمتوں میں مسابقت واضح طور پر بھارت کے حق میں چلی گئی ہے۔
کاٹن جنرز فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکسٹائل صنعت کے واجب الادا اربوں روپے کے ریفنڈز فوری جاری کیے جائیں یا انہیں سپر ٹیکس واجبات کے ساتھ ایڈجسٹ کیا جائے، تاکہ صنعت کو درپیش لیکویڈیٹی بحران پر قابو پایا جا سکے۔
بین الاقوامی کاٹن ایڈوائزری کمیٹی کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025-26 میں عالمی کپاس کی پیداوار 26 ملین ٹن جبکہ کھپت 25.2 ملین ٹن رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں چین کو سب سے بڑا پیدا کنندہ، اس کے بعد بھارت اور برازیل کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ کھپت میں چین اور بھارت سرفہرست اور پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔














