فواد چوہدری نے مفتی تقی عثمانی پر اسلامی بینکنگ سے مالی فائدے کے الزام لگائے اور مولانا فضل الرحمان پر آئینی ترامیم کے دوران مالی مفادات کا الزام عائد کیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ مفتی تقی عثمانی جے یو آئی کے مرکزی فنانسر ہیں اور جب بینکوں کو اسلامی قرار دیا جاتا ہے تو تقریباً تمام بڑے بینکوں کے شریعہ بورڈز میں انہیں یا ان کے بیٹے کو شامل کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول یہ افراد صرف بینک بورڈز میں بیٹھنے اور لین دین کو اسلامی قرار دینے کے فتوے جاری کرنے کے عوض ماہانہ بنیادوں پر بھاری رقوم کماتے ہیں۔
فواد چوہدری نے یہ بات اسلام آباد میں دی بلیک ہول نامی غیر منافع بخش فکری و تعلیمی مرکز میں منعقدہ ایک مباحثے کے دوران کہی۔ یہ نشست “پارلیمان اور مذہب پر مبنی قوانین” کے موضوع پر تھی۔
اسلامی بینکاری پر بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے مفتی تقی عثمانی اور مولانا فضل الرحمان پر سنگین الزامات عائد کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے موقع پر مولانا فضل الرحمان کی واحد شرط یہ تھی کہ آئین میں یہ شق شامل کی جائے کہ ملک کا بینکاری نظام مکمل طور پر غیر سودی اسلامی ہوگا۔ فواد چوہدری کے مطابق اس شرط کے پیچھے مذہبی اصول نہیں بلکہ مالی مفادات کارفرما تھے۔
بچیوں کی شادی کے قانون پر گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے اس مسئلے کو مذہبی کے بجائے ثقافتی اور قبائلی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور شہری مہاجر کمیونٹی میں کم عمری کی شادی کے کیسز شاذ و نادر ہی سامنے آتے ہیں، جبکہ یہ مسئلہ وہاں زیادہ پایا جاتا ہے جہاں قبائلی نظام مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر ایک قبائلی مسئلہ ہے، جسے مذہب کے نام پر جواز فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مولانا فضل الرحمان سمیت متعدد مذہبی رہنما دراصل انہی قبائلی روایات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ فواد چوہدری کے مطابق طالبان کی جانب سے قندھار میں 9 سالہ بچی کی شادی کی اجازت دینا بھی اسی قبائلی سوچ کی مثال ہے، جس کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ سماجی رواجوں سے ہے۔
فواد چوہدری نے بتایا کہ چاند دیکھنے کے معاملے پر ان کا براہِ راست مکالمہ مفتی منیب الرحمان سے ہوا تھا، جس میں انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر چاند کو صرف ننگی آنکھ سے دیکھنا شرط ہے تو عینک کا استعمال بھی درست نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ عینک بھی ایک ٹیکنالوجی ہے۔ ان کے مطابق اس صورت میں عینک استعمال کرنے والے افراد کا رویتِ ہلال کمیٹی میں شامل ہونا بھی منطقی طور پر سوالیہ نشان بنتا ہے۔ فواد چوہدری نے اس تناظر میں کہا کہ پرانی ٹیکنالوجی کو جائز اور جدید سائنسی ذرائع کو ناجائز قرار دینا عقل سے مطابقت نہیں رکھتا، اور چاند دیکھنے کے معاملے کو سائنسی بنیادوں پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
فواد چوہدری نے بتایا کہ انہوں نے اپنے دور میں سائنسی بنیادوں پر قمری کیلنڈر متعارف کرانے کی کوشش کی تھی، جو کچھ عرصہ تک نافذ بھی رہا، تاہم کابینہ کی مکمل حمایت نہ ملنے کے باعث یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہب اور سائنس کو آمنے سامنے کھڑا کرنے کے بجائے جدید تقاضوں کے مطابق قانون سازی کی ضرورت ہے۔
فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں بعض مذہبی حلقوں کے پاس سینکڑوں ارب روپے مالیت کی جائیدادیں موجود ہیں اور مذہبی قوانین یا نعروں کو اکثر پیسے بنانے اور دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پورا نظام ایک منظم پیسہ بنانے والا مافیا بن چکا ہے، جس کا اسلام، قانون سازی یا آئین سے کوئی تعلق نہیں۔
واضح رہے کہ فواد چوہدری اس سے قبل بھی اپنے بیانات کے باعث مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کر چکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے پاکستان میں شراب نوشی سے متعلق قوانین پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ جب متحدہ عرب امارات اور ترکیہ جیسے مسلم ممالک میں شراب نوشی کی اجازت موجود ہے تو پاکستان میں اس معاملے پر بحث کیوں نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ جس نے شراب پینی ہے وہ پیے اور جس نے نہیں پینی وہ نہ پیے، جس پر مختلف مذہبی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔















