آئی ایم ایف کا مشن پاکستان پہنچنے والا ہے، حفیظ پاشا نے معیشت کی موجودہ حالت پر روشنی ڈالی ہے، جہاں معیشت کی بہتری کے باوجود محصولات اور بیرونی کھاتہ مسائل کا باعث بن رہے ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)معروف ماہرِ معیشت حفیظ پاشا نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا مشن جلد پاکستان پہنچے گا تاکہ معاشی اقدامات اوران کے اثرات کا جائزہ لے سکے۔ آئی ایم ایف پیکج کے تحت پاکستان کو 7.2 ارب ڈالر ملنے ہیں جبکہ اس جائزے کے بعد 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری ہونے کی توقع ہے۔
حفیظ پاشا کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ میں معاشی کارکردگی آئی ایم ایف کے اندازوں کے قریب رہی، تاہم بیرونی شعبے میں تشویش کا سامنا ہے۔ پہلی سہ ماہی میں معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو آئی ایم ایف کے تخمینے 3.2 فیصد سے زیادہ ہے۔
مہنگائی کی شرح دسمبر میں 5.6 فیصد رہی جبکہ مالیاتی توازن 2,119 ارب روپے سرپلس رہا۔ تاہم، برآمدات میں 5 فیصد کمی اور درآمدات میں 12.3 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
حفیظ پاشا نے کہا کہ حکومت کو محصولات اور بیرونی شعبے کے مسائل پر فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ یہ مسائل بجٹ خسارے کو متاثر کر سکتے ہیں۔















