پنجاب میں پولیس مقابلوں کے بڑھتے واقعات پر سوالات

پنجاب میں پولیس مقابلوں کے بڑھتے واقعات نے انسانی حقوق پر سوالات اٹھا دیے ہیں، 2025 تک 670 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پنجاب میں پولیس مقابلوں کے بڑھتے واقعات پر سوالات

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پنجاب میں پولیس مقابلوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ریاستی طاقت، احتساب اور انسانی حقوق پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے مطابق 2025 تک صرف پنجاب میں پولیس مقابلوں کے نتیجے میں 670 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ ماہرین نے اس صورتحال کو ایک گہرے ریاستی بحران کی علامت قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پولیس مقابلوں کا بیانیہ پاکستان میں نیا نہیں، جہاں ملزمان کی ہلاکت کو اکثر "جوابی فائرنگ” قرار دے کر قانونی عمل سے بچا لیا جاتا ہے۔ کراچی میں نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد کچھ حد تک یہ رجحان کم ہوا، مگر پنجاب میں دوبارہ شدت اختیار کر گیا۔

پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں، جنہیں 2025 کی پولیس آرڈر ترمیم کے ذریعے قانونی تحفظ بھی حاصل ہوا۔ ناقدین کے مطابق مبینہ جعلی مقابلے فوجداری نظام کا متبادل بن چکے ہیں۔

ماہرینِ قانون کے مطابق شفاف تحقیقات کی کمی اور عدالتی ہدایات کے باوجود احتساب نہ ہونا ریاستی بے خوفی کو تقویت دیتا ہے۔ یہ طرز عمل آئین کے آرٹیکل 9 اور 10-اے کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس تشدد صرف ریاستی پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ سماجی رویوں اور اشرافیہ کی خاموش تائید بھی اس کو دوام دیتی ہے۔ جرائم میں کمی کے دعوؤں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور آئینی ضمانتوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں