جنگ کی صورت میں تنازع کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کو لپیٹ میں لے لے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران جنگ شروع نہیں کرے گا، تاہم کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز)ایران کےسپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے جنگ شروع کی تو یہ تنازع ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کو متاثر کرے گا۔ انہوں نے یہ بات انقلاب اسلامی کی فتح اور حضرت امام خمینیؒ کی ایران واپسی کی 44 ویں سالگرہ کے موقع پر امام خمینیؒ حسینیہ میں عوام کے بڑے اجتماع سے خطاب میں کہی۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے جنگ، طیاروں اور بحری بیڑوں کی باتیں نئی نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی امریکی قیادت یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ تمام آپشن میز پر ہیں، جن میں جنگ کا آپشن شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسلسل اقدامات اور فوجی موجودگی کے دعوے کرتا رہا ہے، تاہم ایرانی قوم ان دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوتی اور ایسے بیانات سے متاثر نہیں ہوتی۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے واضح کیا کہ ایران جنگ شروع کرنے یا کسی ملک پر حملے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو عوام بھرپور جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جنگ کی صورت میں نتائج علاقائی سطح پر ہوں گے۔
انہوں نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ فتنہ دراصل بغاوت کی شکل اختیار کر چکا تھا، جسے ناکام بنا دیا گیا۔ ان کے مطابق ملک کے انتظامی نظام کے حساس مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں پولیس، سرکاری ادارے، اسلامی انقلابی گارڈز کور کے مراکز، بینک اور مساجد شامل تھیں، جبکہ قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کے واقعات بھی پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ریاستی نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش تھے۔














