امریکا نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں فوجی تعیناتیاں بڑھائیں، یو ایس ایس ابراہم لنکن بحیرۂ عرب میں تعینات۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کے دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی تعیناتیوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ اوپن سورس ڈیٹا کے مطابق خطے میں نگرانی پروازیں مسلسل جاری ہیں جبکہ درجنوں فوجی کارگو طیاروں کے ذریعے امریکی اڈوں پر ساز و سامان منتقل کیا گیا ہے۔
اس فوجی نقل و حرکت میں سب سے اہم پیش رفت یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ کی شمالی بحیرۂ عرب میں تعیناتی ہے۔ اس گروپ میں جوہری توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن، تین گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اور مکمل کیریئر ایئر وِنگ شامل ہے۔ ایئر وِنگ میں ایف اے 18 ای اور ایف سپر ہارنیٹس، ایف 35 سی لائٹننگ ٹو فائٹرز اور ای اے 18 جی گراؤلر الیکٹرانک وارفیئر طیارے شامل ہیں۔
امریکی بحریہ کے مطابق خطے میں کیریئر اسٹرائیک گروپ سے الگ تین مزید ڈسٹرائرز یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک، یو ایس ایس مک فال اور یو ایس ایس مِٹسچر بھی موجود ہیں، جو حملہ آور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہر ڈسٹرائر درجنوں ٹوماہاک لینڈ اٹیک میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن کی رینج تقریباً 1600 کلومیٹر اور وارہیڈ وزن تقریباً 450 کلوگرام ہے۔
بحرین میں تعینات تین لیٹرل کامبیٹ شپس، یو ایس ایس سانتا باربرا، یو ایس ایس کینبرا اور یو ایس ایس ٹلسا کو بھی ممکنہ طور پر بارودی سرنگیں صاف کرنے کی ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں، اگر ایران سمندری راستوں میں ایسی صلاحیت استعمال کرے۔
حالیہ دنوں میں امریکا نے خطے میں فضائی دفاعی نظام بھی منتقل کیے ہیں، جن میں اضافی تھاڈ سسٹمز اور پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں شامل ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق یہ نظام قطر کے العدید ایئر بیس پر نصب کیے گئے ہیں، جن کا مقصد کسی بھی ممکنہ جوابی میزائل حملے کا مقابلہ کرنا ہے۔


فضائی محاذ پر بھی امریکی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ ای 11 اے کمانڈ اینڈ کمیونیکیشن طیارہ قطر پہنچ چکا ہے، جو پیچیدہ فضائی اور زمینی کارروائیوں میں رابطے کا کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل طیاروں کا ایک اسکواڈرن، فضائی نگرانی ڈرونز اور آر سی 135 جاسوس طیارے بھی خطے میں تعینات کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے حالیہ دنوں میں فضائی ری فیولنگ ٹینکر طیارے بھی یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل کیے ہیں، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ ایف 35 اسٹیلتھ فائٹرز سمیت مزید طیارے خطے میں پہنچ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو آئندہ حملہ گزشتہ کارروائیوں سے زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی موجودہ فوجی تعیناتی خطے میں طاقت کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ کسی بھی ممکنہ فوجی آپشن کی تیاری کی عکاسی کرتی ہے۔













