امریکا نے ایران کا گھیراوٴ کیسے کیا ہے؟

امریکا نے ایران کے قریب اپنے فوجی اثاثے بڑھا دیے ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے کسی کارروائی کی منظوری نہیں دی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
امریکا نے ایران کے قریب فوجی اثاثے تعینات کر دیے

واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکا نے ایران کے قریب اپنے فوجی اثاثے بڑھا دیے ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی۔ امریکی حکام کے مطابق خطے میں امریکی موجودگی میں اضافہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے قریب بڑا بحری بیڑا بھیجنے کے بعد کیا گیا۔

یہ بحری بیڑا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر مشتمل ہے، جس کے ساتھ ٹوما ہاک میزائلوں سے لیس تین جنگی جہاز بھی شامل ہیں۔ امریکی بحریہ کے مطابق یہ بحری جہاز مغربی بحرِ ہند میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرہ اختیار میں پہنچ چکا ہے اور اب بحیرہ عرب میں تعینات ہیں۔

پروازوں کی نگرانی سے متعلق اعداد و شمار نے اس مقام کی تصدیق کی ہے جہاں یو ایس ایس ابراہم لنکن تعینات ہے، جو ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کی حد میں ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی حکام نے کم از کم ایک درجن ایف-15ای لڑاکا طیارے بھی خطے میں بھیجے ہیں تاکہ زمینی اڈوں سے حملہ کرنے والے طیاروں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔

پینٹاگون نے مزید پیٹریاٹ اور تھاد فضائی دفاعی نظام بھی روانہ کیے ہیں تاکہ خطے میں موجود امریکی فوجیوں کو ایران کے ممکنہ جوابی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس وقت خطے میں 30 ہزار سے 40 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی اور پینٹاگون کے مختلف آپشنز میں سے کسی کا انتخاب بھی نہیں کیا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ سفارتی حل پر غور کر رہے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں