لاہور میں بسنت کی واپسی کا اعلان، 6 سے 8 فروری تک مشروط طور پر اجازت دی گئی، سخت حفاظتی ضوابط کے تحت۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز)لاہور میں برسوں بعد بسنت کی واپسی کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، تاہم اس بار یہ تہوار سخت حفاظتی اور انتظامی ضوابط کے تحت منایا جائے گا۔ پنجاب حکومت نے 6 سے 8 فروری تک بسنت کی خصوصی اجازت دی ہے تاکہ ماضی میں پیش آنے والے جانی نقصانات سے بچا جا سکے۔
پنجاب حکومت کے مطابق، بسنت کی اجازت مریم نواز کی ہدایات پر جاری کی گئی ہے، تاہم لاہور کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں پتنگ بازی بدستور ممنوع رہے گی۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ مقررہ دنوں اور اوقات کے علاوہ پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔
پنجاب کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کے تحت پتنگ کے سائز، ڈور کے مواد اور شور شرابے سے متعلق سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔ نائیلون، پلاسٹک، کیمیکل یا شیشے لگی ڈور اور دھاتی تار کی مکمل ممانعت ہے، جبکہ صرف سوتی ڈور کی اجازت ہوگی، جس پر کیو آر کوڈ لازم ہوگا۔
ڈپٹی کمشنر لاہور نے بتایا کہ پتنگ سازوں اور فروخت کنندگان کے لیے ڈیجیٹل رجسٹریشن لازمی ہے، جو ای بز ایپ اور سرکاری پورٹل کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ اب تک 500 سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے 300 سے زیادہ منظور کی جا چکی ہیں۔
خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ شامل ہے۔ سیاسی، مذہبی یا اشتعال انگیز تصاویر پر مکمل پابندی عائد ہے، جبکہ دفعہ 144 کے تحت صرف سادہ یا رنگین پتنگوں کی اجازت ہوگی۔
لاہور پولیس نے بسنت کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور متعدد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122، موبائل کلینکس اور اسپتالوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ شہر بھر میں 70 کلینکس آن وہیلز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کے تحفظ کے لیے 10 لاکھ اینٹینا راڈز بھی تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
بجلی کے نظام کے تحفظ کے لیے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کو ہدایت دی گئی ہے کہ خطرناک وائرنگ ہٹائی جائے اور خصوصی ٹیمیں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رکھی جائیں۔ شہر کو ریڈ، ییلو اور گرین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں اندرونِ لاہور کو حساس ترین ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بسنت کو بحال کرنا لاہور کی ثقافتی شناخت کا حصہ ہے، مگر اس کی بقا کا انحصار عوامی ذمہ داری اور قانون پر سختی سے عمل درآمد پر ہوگا تاکہ ماضی کی تلخ یادیں دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔















