پاکستان میں دولت کی نمائش اور کم ظاہر کردہ آمدن کے فرق سے ٹیکس نظام پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ایف بی آر کا ‘لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل’ اس تضاد کو جانچنے میں مصروف ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں دولت کی نمایاں نمائش اور کم ظاہر کردہ آمدن کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ٹیکس نظام کے لیے ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ بڑے شہروں میں لیمبورگینی، فیراری اور پورش جیسی مہنگی گاڑیوں کی موجودگی کے باوجود مالکان کی ٹیکس آمدنی کم ظاہر کی جاتی ہے، جس پر حکام کہتے ہیں کہ یہ فرق قانونی جانچ کا تقاضا کرتا ہے۔
ملک میں ٹیکس دہندگان کی شرح ایشیا میں کم ترین سطح پر ہے، جہاں دو فیصد سے بھی کم آبادی انکم ٹیکس ادا کرتی ہے۔ اس تناظر میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ستمبر 2025 میں ‘لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل’ قائم کیا جو اوپن سورس انٹیلی جنس کے ذریعے افراد کی دولت، طرز زندگی اور اخراجات کا جائزہ لیتا ہے۔
ابتدائی تین ماہ میں سیل نے 38 کیسز میں 12.3 ارب روپے کے مبینہ چھپائے گئے اثاثے شناخت کیے ہیں، جن کا تعلق لگژری گاڑیوں، مہنگی تقریبات، بیرون ملک سفر اور دیگر قیمتی اثاثوں سے ہے۔ تقریباً 70 فیصد کیسز کو باقاعدہ آڈٹ کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔
سیل کی کارروائی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل معلومات کو ابتدائی ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقصد آمدن اور طرز زندگی کے درمیان تضاد کی نشاندہی کرنا ہے۔
ایف بی آر نے اپنی کارروائی میں گھوڑوں کی افزائش، مہنگی گھڑ سواری اور محدود حد تک رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں بھی نگرانی شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔














