نِپاہ وائرس کیا ہے اور اس سے کتنا خطرہ لاحق ہے؟

بھارت میں نِپاہ وائرس کے دو کیسز کے بعد پاکستان سمیت علاقائی ممالک میں صحت نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
نِپاہ وائرس کیا ہے اور اس سے کتنا خطرہ لاحق ہے؟

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارت میں نِپاہ وائرس کے دو نئے کیسز کے بعد تھائی لینڈ اور ملائیشیا نے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ سخت کر دی ہے۔ پاکستان نے بھی داخلی راستوں پر اضافی صحت نگرانی کے احکامات جاری کیے ہیں۔

نِپاہ وائرس ایک نایاب مگر خطرناک وائرس ہے جو جانوروں، بالخصوص پھل کھانے والے چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وائرس سے اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

اس وائرس کی پہلی شناخت 1999 میں ملائیشیا میں ہوئی تھی اور بنگلہ دیش میں تقریباً ہر سال کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔ دسمبر تک مجموعی طور پر نِپاہ کے 750 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 415 مریض جاں بحق ہوئے۔

نِپاہ وائرس کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد اور پٹھوں میں درد شامل ہیں۔ بعد ازاں دماغی سوزش اور سانس کی شدید مشکلات بھی ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نِپاہ وائرس مہلک ہے، لیکن تاحال اس میں ایسی خصوصیات نہیں دیکھی گئیں جو اسے عالمی سطح پر تیزی سے پھیلنے والا مرض بنا دیں۔ تاہم یہ ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں اس کے کیسز زیادہ سامنے آتے ہیں۔

فی الحال نِپاہ وائرس کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں، تاہم آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ ویکسین بنگلہ دیش میں ٹرائل کے مرحلے میں ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں