امریکی حملے کی صورت میں ایران کا ردِعمل محدود نہیں بلکہ غیر معمولی ہوگا۔ علی شمخانی

ایران نے امریکا کو کسی فوجی کارروائی کو جنگ کا آغاز تصور کرنے کی وارننگ دی ہے، جس سے خطے میں تناؤ بڑھ سکتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
امریکی حملے کی صورت میں ایران کا ردِعمل محدود نہیں بلکہ غیر معمولی نوعیت کا ہوگا۔ علی شمخانی

تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز)ایران کی اعلیٰ دفاعی کونسل کے نمائندے علی شمخانی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی سطح پر فوجی کارروائی کو جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا۔ یہ بیان انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری کیا۔

علی شمخانی کے مطابق کسی بھی ملک کی جانب سے کی جانے والی عسکری کارروائی فوری اور جامع ردِعمل کی متقاضی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا ردِعمل محدود نہیں بلکہ غیر معمولی نوعیت کا ہوگا جس میں حملے کے منبع، حامیوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

علی شمخانی کے مطابق ردِعمل میں ’’تل ابیب‘‘ سمیت حملہ آور امریکہ کے تمام حامیوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دباؤ اور دھمکیوں کی پالیسی خطے میں تصادم کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ یہ بیانات ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی بیان بازی اور فوجی نقل و حرکت کے باعث خطے میں تناؤ کے بڑھتے ہوئے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں