ایران نے اقوام متحدہ میں امریکی دھمکیوں کے جواب میں مذاکرات کی آمادگی ظاہر کی مگر کہا کہ دباؤ پر سخت جواب دیا جائے گا۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز)اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن نے امریکا کی جانب سے عسکری دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ ایران باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ایرانی مشن نے خبردار کیا کہ دباؤ کی صورت میں ایران اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔
ایرانی مشن نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا ماضی میں افغانستان اور عراق کی جنگوں میں 7 کھرب ڈالر سے زائد خرچ کر چکا ہے جبکہ ان جنگوں میں 7000 سے زیادہ امریکی ہلاک ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان تجربات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
Last time the U.S. blundered into wars in Afghanistan and Iraq, it squandered over $7 trillion and lost more than 7,000 American lives.
Iran stands ready for dialogue based on mutual respect and interests—BUT IF PUSHED, IT WILL DEFEND ITSELF AND RESPOND LIKE NEVER BEFORE! pic.twitter.com/k3fVEv1rus
— I.R.IRAN Mission to UN, NY (@Iran_UN) January 28, 2026
بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر ایران پر دباؤ بڑھایا گیا تو اس کا جواب پہلے سے مختلف اور سخت ہوگا۔ ایرانی مشن کے مطابق کسی بھی جارحیت کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔
یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب امریکی بحری بیڑے کی پیش قدمی کا ذکر کرتے ہوئے ایران پر معاہدہ کرنے کے لیے دباؤ بڑھانے کا بیان دیا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان بیانات کے تبادلے کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سفارتی ذرائع مذاکرات کے امکانات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دے رہے۔














