پارلیمنٹیرینز آن لائن فراڈ اور ہراسانی کا شکار، سائبر کرائم ایجنسی کی بریفنگ میں انکشاف؛ نئی بھرتیوں اور تربیت کا منصوبہ۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ درجن سے زائد پارلیمنٹیرینز آن لائن فراڈ، ہراسانی اور شناخت کے غلط استعمال کا شکار ہوئے ہیں۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ متعدد عوامی نمائندوں سے آن لائن طریقوں سے رقم ہتھیائی گئی اور بعض کی شناخت جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے استعمال کی گئی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
سینیٹر فلک ناز چترالی سے ایک شخص نے خود کو شوکت خانم میموریل اسپتال کا چیف ایگزیکٹو ظاہر کر کے 4 لاکھ 85 ہزار روپے نکلوا لیے، تاہم بعد میں ملزمان کو گرفتار کر کے رقم برآمد کر لی گئی۔ دیگر متاثرین میں سینیٹر بلال احمد مندوخیل اور صاحبزادہ حامد رضا شامل ہیں۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی تصویر استعمال کر کے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنایا گیا، جبکہ سینیٹر پلوشہ کو آن لائن سرمایہ کاری کے نام پر دھوکا دیا گیا۔ 11 رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 6 مقدمات میں ملزمان گرفتار اور رقوم برآمد کی جا چکی ہیں۔
ڈی آئی جی عرفان اللہ نے بتایا کہ ملک بھر سے ایک لاکھ 57 ہزار شکایات موصول ہوئیں ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین نے عوامی سطح پر آن لائن فراڈ کے پھیلاؤ کو تشویش ناک قرار دیا۔ حکومت ایجنسی کو مضبوط بنانے کے لیے نئی بھرتیوں اور تربیت پر کام کر رہی ہے۔















