روزگار کی تلاش میں پاکستانیوں کی بیرونِ ملک نقل مکانی جاری، ملکی معیشت ترسیلاتِ زر پر منحصر

وزارتِ خزانہ کے مطابق، پچھلے ایک سال میں 7 لاکھ 62 ہزار سے زائد پاکستانی بیرون ملک منتقل ہوئے، جو ترسیلات زر کے ذریعے معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
روزگار کی تلاش میں پاکستانیوں کی بیرونِ ملک نقل مکانی جاری، ملکی معیشت ترسیلاتِ زر پر منحصر

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزارتِ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 7 لاکھ 62 ہزار سے زائد پاکستانی بیرون ملک منتقل ہوئے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو ترسیلات زر کے ذریعے سہارا مل رہا ہے۔ وزارت کی رپورٹ کے مطابق، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات میں کمی کے باوجود، بیرون ملک پاکستانیوں کی رقوم معیشت کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہیں۔

وزارتِ خزانہ کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق، کیلنڈر سال 2025 میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے تحت 7 لاکھ 62 ہزار 499 پاکستانی کارکنان کی بیرون ملک رجسٹریشن ہوئی۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہے۔ دسمبر 2025 میں ہی 76 ہزار 207 افراد نے بیرون ملک ملازمت کے لیے روانہ ہوئے، جو سالانہ بنیاد پر 18.7 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 5 لاکھ 30 ہزار پاکستانی بہتر روزگار کے مواقع کے لیے سعودی عرب منتقل ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ غیر ہنرمند، ہنرمند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد طویل معاشی سست روی اور سیاسی عدم استحکام کے باعث بیرون ملک مواقع تلاش کر رہے ہیں۔

وزارت کے مطابق، بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر غیر قرضہ جاتی زرمبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ مالی سال کے پہلے نصف میں ترسیلات 19.7 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد اضافہ ہے۔ حکومت کو سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر ترسیلات موصول ہوتی ہیں، جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق، جولائی تا دسمبر کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 44 فیصد کمی کے بعد 808 ملین ڈالر رہ گئی۔ اسی مدت میں ترسیلات زر کی مالیت براہ راست سرمایہ کاری سے 23 گنا زیادہ رہی، اور 15.5 ارب ڈالر کی برآمدات سے بھی 4.2 ارب ڈالر زیادہ تھی۔

وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کا امکان ہے، تاہم ترسیلات زر اور آئی ٹی و خدماتی برآمدات کی مستحکم کارکردگی بیرونی دباؤ کو کم کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق، جولائی تا دسمبر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.2 ارب ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں 960 ملین ڈالر کا سرپلس تھا۔

مالیاتی محاذ پر وزارت نے کہا کہ جولائی تا نومبر مدت میں مالی نظم و ضبط کے باعث 0.8 فیصد جی ڈی پی یا 982 ارب روپے کا مجموعی مالیاتی سرپلس حاصل ہوا، جبکہ 2.8 فیصد جی ڈی پی یا 3.7 کھرب روپے کا بنیادی سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم مرکزی بینک کے مطابق آئی ایم ایف کے مقررہ سالانہ بنیادی سرپلس ہدف کا حصول چیلنجنگ رہے گا کیونکہ ایف بی آر کی وصولیاں مقررہ اہداف سے کم ہیں۔

مہنگائی سے متعلق وزارتِ خزانہ نے کہا کہ جنوری میں افراط زر 6 فیصد کے قریب مستحکم رہنے کی توقع ہے، جبکہ گزشتہ ماہ مہنگائی 5.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ وزارت کے مطابق بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار میں بہتری اور دیگر معاشی اشاریے رواں مالی سال میں ترقی کی رفتار برقرار رہنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں