لاہور ہائیکورٹ نے میشا شفیع کو علی ظفر کے خلاف بیانات سے روک دیا

لاہور ہائیکورٹ نے میشا شفیع کو علی ظفر کے خلاف بیانات دینے سے روک دیا، ہتکِ عزت کے مقدمے کا فیصلہ جلد کرنے کی ہدایت۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
لاہور ہائیکورٹ نے میشا شفیع کو علی ظفر کے خلاف بیانات سے روک دیا

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کو گلوکار علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی سے متعلق بیانات دینے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے یہ پابندی علی ظفر کی جانب سے دائر ہتکِ عزت کے مقدمے کے حتمی فیصلے تک نافذ رکھی ہے۔

عدالت نے کہا کہ الزامات کی سچائی شواہد کے بغیر طے نہیں کی جا سکتی، لہذا بار بار عوامی بیانات دینا متوازی میڈیا ٹرائل کے مترادف ہو سکتا ہے۔ عدالت نے میشا شفیع کی درخواست مسترد کر دی جس میں 2019 کے حکمِ امتناع کو چیلنج کیا گیا تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ غیر معمولی حالات میں عبوری حکم ضروری ہو سکتا ہے تاکہ شہرت کو ناقابلِ تلافی نقصان سے بچایا جا سکے، کیونکہ شہرت کو مالی معاوضے سے بحال کرنا ممکن نہیں۔

جسٹس ارشد نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی معقول پابندیوں کے ساتھ مشروط ہے اور یہ حقِ وقار کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے۔ ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی گئی کہ مقدمے کا فیصلہ ترجیحی بنیادوں پر جلد کیا جائے۔

دیگر متعلقہ خبریں