ایٹمی سائنس دانوں نے عالمی خطرات کے پیش نظر قیامت کی گھڑی کو نصف شب کے مزید قریب کر دیا ہے، جسے 85 سیکنڈ قبل از نصف شب مقرر کیا گیا ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
ایٹمی سائنس دانوں نے عالمی تباہی کے خطرات کے باعث قیامت کی گھڑی کو نصف شب کے مزید قریب کر دیا ہے۔ بلیٹن آف دی ایٹامک سائنٹسٹس نے گھڑی کو 85 سیکنڈ قبل از نصف شب مقرر کیا ہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 4 سیکنڈ مزید قریب ہے۔
یہ فیصلہ روس، چین اور امریکا سمیت ایٹمی طاقتوں کے جارحانہ رویے، جوہری ہتھیاروں پر کنٹرول کی کمزوری اور عالمی تنازعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
بلیٹن کی صدر الیگزینڈرا بیل نے کہا کہ عالمی قیادت کی ناکامی واضح ہے، قوم پرستانہ پالیسیوں نے دنیا کو خطرناک سمت میں دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے روس یوکرین جنگ، ایران پر امریکا اور اسرائیل کی بمباری، بھارت پاکستان کشیدگی اور دیگر تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کا خطرہ ناقابل قبول حد تک بڑھ چکا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے فوجی نظاموں میں استعمال، حیاتیاتی خطرات اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو بھی تشویش کا باعث قرار دیا گیا۔ قیامت کی گھڑی 1947 میں عالمی تباہی سے خبردار کرنے کے لئے بنائی گئی تھی۔













