پاکستان کی درآمدات میں اضافہ، برآمدات میں کمی سے تجارتی خسارہ بڑھ گیا۔ڈاکٹر حفیظ پاشا

مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ میں درآمدات میں 12% اضافہ اور برآمدات میں 5% کمی سے تجارتی خسارہ بڑھا۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے تجزیہ کیا ہے کہ یہ صورتحال زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستان کی درآمدات میں اضافہ، برآمدات میں کمی سے تجارتی خسارہ بڑھا

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ کے دوران درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن کے باعث کرنٹ اکاونٹ دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔ معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق اشیا کی برآمدات میں 5 فیصد کی کمی جبکہ درآمدات میں 12 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

ڈاکٹر پاشا کے تجزیے کے مطابق چاول کی برآمدات میں 40 فیصد کمی برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ ہے، جبکہ گاڑیوں کی درآمدات میں 105 فیصد اور غذائی اشیا کی درآمدات میں 21 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 37.3 فیصد بڑھ گیا۔

انہوں نے کہا  ہے کہ زر مبادلہ  کا برائے نام استحکام اور قدرے زائدشرح برآمدات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، جبکہ روپے کا حقیقی مؤثر شرح مبادلہ اشاریہ 105 کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ماضی میں برآمدات کی بہتر کارکردگی اس وقت دیکھی گئی جب یہ اشاریہ 95 کے قریب تھا۔

تجزیے میں مزید کہا گیا کہ تجارتی خسارے کے دباؤ کو جزوی طور پر ترسیلات زر میں 11 فیصد اضافے نے متوازن رکھا۔ تاہم اگر درآمدات اور برآمدات کا یہی رجحان برقرار رہا تو زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں