اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہڑتال کا معاملہ، جسٹس محسن اختر کیانی کے تنقیدی ریمارکس

اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی وکلاء ہڑتال پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ایمان مزاری کی گرفتاری پر اظہارِ خیال کیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی وکلاء ہڑتال پر جسٹس کے ریمارکس

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی جانب سے وکلاء کی ہڑتال کے معاملے پر سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم اور سخت ریمارکس دیے ہیں۔

عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ آج وکلاء کی ہڑتال کس وجہ سےہے؟ اس موقع پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ ہڑتال ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے خلاف کی جا رہی ہے۔

جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ جو لوگ خود گرفتاری کرواتے ہیں، خود جیل بجھواتے ہیں اور پھر ہڑتال کر دیتے ہیں، انہیں تو میڈل ملنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ججز کو پہلے ہی نااہل کہا جاتا ہے اور اب عدالتوں کو بھی مردہ قرار دیا جا رہا ہے، جو عدالتی نظام کے لیے تشویشناک امر ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ بار تو خود جیل چھوڑ کر آئی ہے اور اب ہڑتال کی جا رہی ہے۔

سماعت کے دوران انہوں نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ بغیر قانون کے ایک جج نے غیر معمولی فیصلہ دے دیا ہے، جو عدالتی اصولوں کے منافی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں