شرحِ سود میں کمی نہ ہونے پر بزنس فورم برہم، حکومت سے کاروباری لاگت پر سوال

پاکستان بزنس فورم نے مانیٹری پالیسی میں شرحِ سود میں کمی نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی۔ کاروباری لاگت خطے سے 34 فیصد زیادہ ہے، فورم نے معاشی گروتھ کے لیے بڑے فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستان بزنس فورم کا مانیٹری پالیسی میں کمی نہ ہونے پر اظہار مایوسی

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان بزنس فورم نے مانیٹری پالیسی میں شرحِ سود میں کمی نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ فورم کے صدر خواجہ محبوب الرحمن نے سوال اٹھایا کہ حکومت کاروبار میں آسانی کے تصور کو کیوں نظرانداز کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر شرحِ سود میں کمی کی جاتی تو نجی شعبے کے قرض لینے کی شرح میں اضافہ ہوتا، جبکہ اس وقت پاکستان کی کاروباری لاگت خطے کی نسبت 34 فیصد زیادہ ہے۔

خواجہ محبوب نے کہا کہ سنگل ڈیجٹ شرح سود سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو حوصلہ ملتا، جبکہ اس وقت تقریباً 90 روپے فی لیٹر پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لیا جا رہا ہے۔

پاکستان بزنس فورم نے کہا کہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح امریکہ اور برطانیہ سے بھی زیادہ ہے، جبکہ بجلی اور گیس کے بلوں میں بھی ٹیکس کی شرح بڑھائی گئی ہے۔

فورم کے مطابق زرمبادلہ کے موجودہ ذخائر کے پیش نظر روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 240 روپے ہونی چاہیے، اور روپے کی تیز رفتار تنزلی معاشی بگاڑ کی ایک اہم وجہ تھی۔ فورم نے معیشت کو گروتھ کی طرف لے جانے کے لیے بڑے فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا۔

دیگر متعلقہ خبریں